ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کے رکن پارلیمنٹ حسین نجابت نے کہا ہے کہ مغرب کو جان لینا چاہئے کہ ایران کو یورینیم کی افزودگی اور ایٹمی توانائي کی پیداوار کا حق حاصل ہے۔
حسین نجابت نے ریڈیو تہران کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ایران این پی ٹی معاہدے میں شامل ہے اور این پی ٹی معاہدے میں ایٹمی توانائي سے پرامن استفادے پر مبنی تمام ممالک کے حق کو تسلیم کیا گيا ہے لیکن افسوس کہ مغرب این پی ٹی کی بنیاد پر ایران کے اس مسلمہ حق کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ مغرب کو یہ جان لینا چاہئے کہ ایران کو این پی ٹی کا رکن ہونے کی حیثیت سے پرامن مقاصد کے لئے یورینیم کی افزودگی اور ایٹمی توانائي کی پیداوار کا حق حاصل ہے۔ مجلس شورائے اسلامی کے رکن نے کہا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام بہت شفاف اور واضح ہے اور مغرب کو اپنے اقدامات کے بارے میں جوابدہ ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ملت ایران اپنے ایٹمی سائنس دانوں کی صلاحیت پر بھروسہ کرتے ہوئے یورینیم کی افزودگی کے حق سے دستبردار نہیں ہوگي تاکہ مستقبل میں مغرب کی طرف ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
حسین نجابت نے ریڈیو تہران کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ایران این پی ٹی معاہدے میں شامل ہے اور این پی ٹی معاہدے میں ایٹمی توانائي سے پرامن استفادے پر مبنی تمام ممالک کے حق کو تسلیم کیا گيا ہے لیکن افسوس کہ مغرب این پی ٹی کی بنیاد پر ایران کے اس مسلمہ حق کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ مغرب کو یہ جان لینا چاہئے کہ ایران کو این پی ٹی کا رکن ہونے کی حیثیت سے پرامن مقاصد کے لئے یورینیم کی افزودگی اور ایٹمی توانائي کی پیداوار کا حق حاصل ہے۔ مجلس شورائے اسلامی کے رکن نے کہا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام بہت شفاف اور واضح ہے اور مغرب کو اپنے اقدامات کے بارے میں جوابدہ ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ملت ایران اپنے ایٹمی سائنس دانوں کی صلاحیت پر بھروسہ کرتے ہوئے یورینیم کی افزودگی کے حق سے دستبردار نہیں ہوگي تاکہ مستقبل میں مغرب کی طرف ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲