4 اپریل 2013 - 19:30

بحرين کے مختلف علاقوں ميں عوام نے مظاہرے کرکے ملک سے تمام غير ملکي افواج کے انخلا اور سياسي قيديوں کي فوري رہائي کا مطالبہ کيا ہے -

ابنا: بحرين ميں حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ   جاري ہے - اس رپورٹ کے مطابق جمعے کو دارالحکومت منامہ   ميں زبردست مظاہرے ہوئے جن ميں عوام نے ملک سے سعودي فوجيوں سميت تمام غير ملکي افواج کي فوري واپسي اور تمام سياسي قيديوں کي رہائي کا مطالبہ کيا-  بلاد قديم، جزيزہ سترہ ، سنابس، القدم، اور النويدارات  سميت ديگر علاقوں کے لوگوں نے بھي جمعے کو  سڑکوں پر آکے آل خليفہ حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور نمائشي عدالت ميں سياسي کارکنوں اور انقلابيوں پر مقدمے کا سلسلہ بند کئے جانے کا مطالبہ کيا -مظاہرين نے  ملک کي جيلوں ميں بند سياسي قيديوں کے ساتھ يکجہتي کا اعلان بھي کيا - مظاہرين نے  ملک کے بادشاہ حمد بن عيسي آل خليفہ کے خلاف عالمي عدالت ميں مقدمہ چلائے جانے کا بھي مطالبہ کيا-مظاہروں ميں شريک لوگوں نے انپے ہاتھوں ميں ايسے بينر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر سعودي فوجيوں کے انخلا کے مطالبات درج تھے- بعض علاقوں ميں سعودي فوجيوں اور بحريني سيکورٹي اہلکاروں نے  طاقت کا استعمال کرتے ہوئے مظاہرين کو زبردست تشدد کا نشانہ بنايا ہے- سعودي فوجيوں اور بحريني سيکورٹي اہلکاروں کے تشدد کے نتيجے ميں متعدد مظاہرين زخمي بھي ہوئے ہيں-يادر ہے کہ بحرين کي نمائشي عدالت نے جمعرات کو پندرہ سياسي کارکنوں کو طولاني مدت کي قيد کي سزائيں سنائي ہيں - رپورٹوں کے مطابق منامہ کي نمائشي عدالت نے جمعرات کو تين شہريوں کو بے بنياد الزامات کے تحت پندرہ پندرہ سال قيد، اور بارہ  ديگر سياسي کارکنوں اور انقلابيوں  کو دس دس سال قيد کي سزائيں سنائي ہيں -    يہ ايسي حالت ميں ہے کہ انساني حقوق کي تنظيموں نے بارہا اعلان کيا ہےکہ بحرين ميں قيديوں کو سخت ايذائيں دي جاتي ہيں اور  اعترافي بيان  ان سے زبردستي دستخط کرائے جاتے ہيں  اور انہي اعترافي بيانات کي بنياد پر سزائيں سنائي جاتي ہيں -...../169