اہلبیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ غیر ملکی ذرائع سے خبر ملی ہے کہ میانمار کے صدر تھین سین نے آج قوم سے ریڈیو خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم کش فسادات سے ساری دنیا میں میانمار بدنام ہو چکا ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات نے ملک کے عالمی امیج کو مجروح کر دیا ہے۔ اس تشدد میں درجنوں ہلاک ہوئے ہیں اور عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ۲۰ مارچ سے تشدد کی نئی لہر کے دوران کئی مساجد اور مسلمانوں کے ہزاروں مکانات کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ ۴۳ افراد ہلاک ہو گئے ہیں ۔ ایک موضع مسلمانوں سے خالی ہو گیا ہے۔ حکومت نے ایمرجنسی نافذ کی اور بعض علاقوں میں کرفیو لگایا۔
صدر میانمار تھین سین نے قوم سے کئے گئے ریڈیو خطاب میں کہا کہ میانمار کے چند شہریوں کو ہلاک کیا گیا اور آتشزدگی کے ذریعہ نفرت کی آگ پھیلائی گئی۔ قانون کی حکمرانی کی دھجیاں اڑا دیے جانے سے ساری دنیا میں میانمار کے وقار پر ضرب لگی ہے۔ اس طرح کے واقعات سے ملک کی بدنامی ہو رہی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر میانمار کو اس طرح فرقہ وارانہ فسادات کی آگ میں جھونک دیا گیا تو یہ ملک غیر مستحکم ہو جائے گا۔ اقوام متحدہ نے مسلم کش فسادات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اتنہا پسند بدھسٹوں کی جانب سے گزشہ سال شروع کئے گئے فسادات میں ملک کو بھاری نقصان ہوا ہے۔
تھین سین نے اپنی تقریر میں یہ عہد کیا کہ وہ اس تشدد کو ختم کریں گے اور مذہبی انتہا پسندی، سیاسی موقع پرستوں کو تشدد سے روکنے کی کوشش کریں گے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/242
صدر میانمار تھین سین نے قوم سے کئے گئے ریڈیو خطاب میں کہا کہ میانمار کے چند شہریوں کو ہلاک کیا گیا اور آتشزدگی کے ذریعہ نفرت کی آگ پھیلائی گئی۔ قانون کی حکمرانی کی دھجیاں اڑا دیے جانے سے ساری دنیا میں میانمار کے وقار پر ضرب لگی ہے۔ اس طرح کے واقعات سے ملک کی بدنامی ہو رہی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر میانمار کو اس طرح فرقہ وارانہ فسادات کی آگ میں جھونک دیا گیا تو یہ ملک غیر مستحکم ہو جائے گا۔ اقوام متحدہ نے مسلم کش فسادات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اتنہا پسند بدھسٹوں کی جانب سے گزشہ سال شروع کئے گئے فسادات میں ملک کو بھاری نقصان ہوا ہے۔
تھین سین نے اپنی تقریر میں یہ عہد کیا کہ وہ اس تشدد کو ختم کریں گے اور مذہبی انتہا پسندی، سیاسی موقع پرستوں کو تشدد سے روکنے کی کوشش کریں گے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/242