28 مارچ 2013 - 19:30

اہلبیت(ع) عالمی اسمبلی اپنے تمام اعضاء اور اراکین نیز بین الاقوامی آرگنائزیشنز اور حقوق بشر تنظیموں سے پرزور اپیل کرتی ہے کہ جتنا جلدی ممکن ہو سکے شیخ النمر، علامہ العامر اور دیگر قیدیوں کی زندگیاں بچانے کے لیے کوئی موثر اقدام کریں اور آل سعود سے حقوق بشر کے اصول اولیہ کی رعایت کرنے کے مطالبہ کے ساتھ ساتھ اس ملک کے شیعوں کو آزادی اور اپنی سرنوشت خود معین کرنے کا حق دلوائیں۔

اہلبیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ آل سعود عدالت میں حجۃ الاسلام و المسلمین شیخ باقر النمر کے اعدام کے بارے میں صدور حکم کا مطالبہ کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اہلبیت (ع) عالمی اسمبلی نے ایک بیان صادر کیا ہے۔اہلبیت(ع) عالمی اسمبلی نے اپنے بیان میں اس غیر منصفانہ مطالبہ کی مذمت کرتے ہوئے اس عالم ربانی، مجاہد فی سبیل اللہ اور دیگر سیاسی سرگرم بے گناہ افراد کے سر انجام کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اور اپنے تمام اعضاء اور اراکین سے مطالبہ کیا ہے کہ اس عالم دین اور سعودیہ کی جیلوں میں بند دیگر شیعہ افراد کی زندگیوں کو بچانے کے لیے جلد از جلد کوئی موثر اقدام کریں۔ بیان کا ترجمہ یہ ہے:بسم الله الرحمن الرحيم«الذين آمنوا و هاجروا و جاهدوا  في سبيل الله بأموالهم و أنفسهم أعظم درجة عند الله و اولئك هم الفائزون» (سوره توبه ـ آيه 20)ڈکٹیٹر سعودی حکومت کی عدالت میں عالم دین حجۃ الاسلام و المسلمین شیخ نمر باقر النمر کے اعدام کا مطالبہ ایک خطرناک اور بھیانک اقدام ہے۔ ملک میں بد امنی پھیلانے اور قطیف میں حکومت کے خلاف عوام کو بھڑکانے کے الزامات ایسے شرائط میں ان پر اور دیگر علماء اور سیاسی سرگرمیاں رکھنے والے افراد پر عائد کئے جا رہے ہیں جبکہ وہ ان بے بنیاد الزامات کے برخلاف شرقی علاقہ میں عوامی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں اور آزادی، عدالت، انصاف اور عوامی حکومت قائم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔آل سعود نے جاسوسی کے الزامات کے نتیجہ میں سعودیہ کے دیگر ۱۸ شیعہ افراد کو بھی غیر قانونی طور پر اس ملک کی جیلوں میں بند کر رکھا ہے جبکہ متہمین اور عالمی تنظیموں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔آل سعود عدالت کی طرف سے خدا کے ساتھ جنگ کا حکم صادر کرنے کے مطالبہ کے بعد عربستان اور دیگر ممالک کے عوام اور حقوق بشر تنظیموں نے احتجاج اور اعتراض کر کے اس غیر عادلانہ اقدام کی مذمت کی ہے اور  شیخ النمر کے سرانجام کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔اہلبیت (ع) عالمی اسمبلی اس غیر منصفانہ مطالبہ کی مذمت کرتے ہوئے اس عالم بزرگوار اور مجاہد فی سبیل اللہ اور دیگر علماء و فقہا اور سیاسی سرگرم افراد کے سر انجام کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتی ہے اس لیے کہ یہ عدالت وکلاء کی عدم موجودگی اور متہم کو حق دفاع دئے بغیر قائم ہوئی ہے۔اہلبیت (ع) عالمی اسمبلی اس عالم ربانی کے خلاف حکم صادر کرنے کو خدا کے ساتھ جنگ اور دیگر علماء، فقہا اور سیاسی سرگرم افراد کو سرکوب کرنے کا زمینہ قرار دیتی ہے۔ جبکہ انہوں نے چند دھائیوں سے ہی آزادی بیان کے حق کے تحت اپنے پامال شدہ حقوق کو حاصل کرنے اور سماجی اور شرعی ذمہ داریوں کو  پورا کرنے کی مانگ کی تھی کہ آل سعود ڈکٹیٹر حکومت نے نہ صرف ان کے ضائع شدہ حقوق کا جبران نہیں کیا بلکہ ان افراد کو گرفتار کر کے جیلوں میں بند کر دیا تاکہ حق اور حقیقت کی آواز بند ہو جائے۔اہلبیت(ع) عالمی اسمبلی اپنے تمام اعضاء اور  اراکین نیز بین الاقوامی آرگنائزیشنز اور حقوق بشر تنظیموں سے پرزور اپیل کرتی ہے کہ جتنا جلدی ممکن ہو سکے شیخ النمر، علامہ العامر اور دیگر قیدیوں کی زندگیاں بچانے کے لیے کوئی موثر اقدام کریں اور آل سعود سے حقوق بشر کے اصول اولیہ کی رعایت کرنے کے مطالبہ کے ساتھ ساتھ اس ملک کے شیعوں کو آزادی اور اپنی سرنوشت خود معین کرنے کا حق دلوائیں۔اہلبیت (ع) عالمی اسمبلی نیز تمام مراجع کرام، علمائے اعلام، حوزہ ہائے علمیہ اور پوری دنیا کی تمام سیاسی شخصیتوں سے درخواست کرتی ہے کہ اس ملک میں علماء اور دینی رہبروں کی حرمت کی حفاظت کی خاطر اپنے بیانات صادر کر کے سعودی حکمرانوں پر دباو ڈالیں تاکہ وہ اس عالم ربانی اور دیگر سیاسی قیدیوں کو  رہائی دیں۔اہلبیت (ع) عالمی اسمبلی دنیا کے اصول پسند میڈیا سے بھی مطالبہ کرتی ہے کہ وہ خاموشی کی لگام توڑ کر ان حقائق اور واقعیتوں کو برملا کریں اور دنیا کی غیرت مند عوام کی توجہات کو ان کی طرف مبذول کروائیں۔                                                                                                           اہلبیت (ع) عالمی اسمبلی                                                                                                                    ۲۸ مارچ،۲۰۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/242