ابنا: ممتاز شيعہ عالم دين شيخ باقر نمر پر رياض کي ايک عدالت ميں منگل سے مقدمے کي کاروائي شروع ہوگئي ہے - اس رپورٹ کے مطابق آل سعود کے سرکاري وکيل نے آيت اللہ شيخ باقر نمر پر قطيف ميں شورش، غير ملکي مداخلت حاصل کرنے، ملک سے غداري، آل سعود حکام کي توہين اور غير ملکي قوت سے استفادے کي دھمکي نيز بحرين ميں شورش کي حمايت کا الزام لگاتے ہوئے عدالت سے ان کے لئے سزائے موت کا مطالبہ کيا ہے
قابل ذکر ہے کہ آل سعود کے سيکورٹي اہلکاروں نے آيت اللہ شيخ باقر نمر کو جولائي دو ہزار بارہ ميں زخمي کرنے کے بعد گرفتار کرليا تھا - انہوں نے آل سعود کے سيکورٹي اہلکاروں کے حملے اور گرفتاري سے قبل اپني ايک تقرير ميں بحرين ميں سعودي عرب کي مداخلت کي سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ آل سعود کي حکومت بحرين ميں عوام کا قتل عام کيوں کررہي ہے جبکہ اس نے فلسطين کے بارے ميں اب تک کوئي معمولي قدم بھي نہيں اٹھايا ہے -
سعودي عرب بالخصوص اس ملک کے مشرقي علاقوں القطيف، العواميہ، القسيم اور البريدہ ميں تقريبا دوسال سے سماجي نا انصافي ، امتيازي سلوک اور عوام کے بنيادي انساني حقوق کي پامالي کے خلاف عوام کے مظاہروں کا سلسلہ جاري ہے جس کے دوران آل سعود کے سيکورٹي اہلکاروں کے حملوں ميں متعدد افراد شہيد سيکڑوں زخمي اور ہزاروں افراد گرفتار کرکے جيلوں ميں بند کئے جاچکے ہيں ليکن مظاہرے بند ہونے کے بجائے وسيع تر ہوئے ہيں اور رياض، جدہ ، مدينہ منورہ اور مکہ مکرمہ ميں بھي عوامي مظاہرے ہوئے ہيں.
.......
/169