23 مارچ 2013 - 19:30

بحرين کي آل خليفہ حکومت کے کارندوں نے پرامن مظاہرے ميں شريک متعدد افراد کو گرفتار کرليا ہے -

ابنا: بحريني عوام ، انساني حقوق مرکز کے سربراہ نبيل رجب کي حمايت ميں جو جيل ميں بند ہيں مظاہرہ کررہے تھے - منامہ سے موصولہ خبروں ميں کہا گيا ہے کہ بحريني سيکورٹي فورس کے اہلکاروں نے منامہ ميں پرامن مظاہرے ميں شريک لوگوں پر حملہ کرکے متعدد مظاہرين کو زخمي اور دسيوں ديگر کو گرفتار کرليا ہے
گرفتار ہونےوالوں ميں انساني حقوق کے معروف کارکن يوسف المحافظہ بھي شامل ہيں - مظاہرے کا اہتمام بحرين کي سب سے بڑي اپوزيشن جماعت جمعيت الوفاق نے کيا تھا-
بحرين کے انساني حقوق کے مرکز کے سربراہ نبيل رجب کو بحريني حکومت نے صرف اس جرم ميں جيل ميں بند کررکھا  ہے کہ انہوں نے پرامن مظاہرے کي دعوت دي تھي - بحرين ميں انساني حقوق کے لئے کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ بحرين ميں ايسے بہت سے افراد کو جيلوں ميں بندکرديا گيا ہے جنھوں نے ملک ميں انساني حقوق کي کھلي خلاف ورزيوں پر تنقيد کي تھي - اس درميان بحرين ميں انساني حقوق کي ايک اور کارکن زينب الخواجہ نے جو عرصے سے جيل ميں بند ہيں اپنے رشتہ داروں کو ان سے ملنے کي اجازت نہ دئے جانے کے حکومتي اقدام کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے جيل ميں بھوک ہڑتال شروع کردي ہے

بحرين ميں انساني حقوق کے لئے کام کرنےوالے دسيوں افراد کو جيل کي سلاخوں کے پيچھے ڈال ديا گيا ہے جن ميں نبيل رجب ، عبدالہادي الخواجہ اور ان کي بيٹي زينب الخواجہ کے نام قابل ذکر ہيں.
.......
/169