23 مارچ 2013 - 19:30

اسلام نام سلامتی کا ہے جس میں شر پسندی، دھشت گردی اور انسانی قتل عام کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

اہلبیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ فیتھ بیس ریکنسی لیشن ٹرسٹ جموں کشمیر ہندوستان کے سربراہ جناب ایڈولیٹ افتخار احمد بزمی نے اپنے ایران زیارتی دورے پر اہلبیت(ث) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کے نمائندہ سے اسلامی اتحاد کی ضرورت کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے  کہا :
جو پیغام آیت اللہ العظمی امام خمینی (رہ) نے اپنے دور حیات میں دیا تھا اب وقت آن پہنچا ہے کہ یہ پیغام پوری دنیا میں پھیلایا جائے اور ہر ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ بلا لحاظ مسلک و ملت قرآن و حدیث کی روشنی میں عالمی سطح پر بالخصوص امت مسلمہ اور بالعموم دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان امن کا پیغام دے چونکہ اسلام نام سلامتی کا ہے جس میں شر پسندی، دھشت گردی اور انسانی قتل عام کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ فریضہ ہر مسلمان کا ہے کہ وہ اصل دین اسلام کو دنیا کے سامنے پیش کرے جس میں صرف اور صرف قرآن اور  حدیث ہو نہ کہ انسانوں کے بنائے ہوئےجعلی اصول اور قوانین ہوں جس سے نہ کہ صرف مسلمان بلکہ عالمی سطح پر اسلام بھی بدنام ہو رہا ہے۔
اپنے زیارتی دورے میں معصومہ قم(س) کے روضے سے واپسی پر افتخار بزمی نے دنیا میں رہنے والے سبھی انسانوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ آج کل گلوبل ورڈ کا زمانہ پہنچ گیا ہے اور انسان اپنے ذاتی مسئلوں میں الجھا ہوا ہے ہمیں چاہیے کہ ہم آپس میں اتحاد و اتفاق سے رہیں اور دوسرے لوگوں کے ساتھ بلا لحاظ مذہب و ملت اچھا رابطہ قائم کریں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو پیار و محبت سے اسلام سے آشنا کروائیں، جس سے نہ کہ صرف اسلام پروان چڑھے گا بلکہ مسلمانوں کے تئیں بھی دیگر مذاہب کے ماننے والوں کا نظریہ تبدیل ہو جائے گا جو کہ اسلام کو دھشت گردی پھیلانے والا دین اور مسلمان کو دھشت گرد کہتے ہیں۔
ہمیں چاہیے کہ اللہ تبارک و تعالی اور اس کے حبیب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ کے بتائےہوئے راستے پر چلیں اور جو بھی انسان کے بنائے ہوئے جعلی اصول ہیں ان کو بالائے طاق رکھیں اور اسلام کو نہ صرف اپنے دنیاوی مقصد کے لیے غلط طریقہ سے پیش کریں بلکہ اصل اسلام جو دنیا میں پیار و محبت سیکھاتا ہے اس کی ترویج کریں۔
انہوں نے تشویق ناک حادثات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا: دنیا میں جہاں پاکستان افغانستان عراق، شام، بحرین اور میانمار میں مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا ہے وہاں پر سبھی مسلم ممالک کو ایک ہو کر دھشت گردی کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے اور اپنے آپ کو اللہ تبارک تعالی کے حوالے کر کے انسانی بقا کی خاطر کام کرنا چاہیے۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/242