ابنا: بحرين کے انساني حقوق مرکز کے رکن عبداللہ الماحوزي نے اپنے ايک انٹرويو ميں کہا ہے کہ حکومت ملک کے انقلابي لوگوں کے خلاف ايذا رساني کے انتہائي ظالمانہ طريقے استعمال کر رہي ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بحرين کي شاہي حکومت عوامي تحريک کو کچلنے کے لئے کسي بھي غير انساني اقدام کے ارتکاب سے گريز نہيں کر رہي- انہوں نے کہا کہ حکومت کي جانب سے عوامي مطالبات پورے کئے جانے کي کوئي علامات دکھائي نہيں ديتيں۔
عبداللہ الماحوزي نے کہا کہ بسيوني کميٹي کي رپورٹ سامنے آنے کے بعد سے ملک ميں مزيد پچاس افراد سيکورٹي فورس کے ہاتھوں مارے جاچکے ہيں جبکہ اکتيس سرکردہ بحريني رہنماؤ کي شہريت منسوخ کردي گئي ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کي نمائشي عدالتوں نے انقلابيوں کا علاج کرنے کے جرم ميں ڈاکٹروں اورنرسوں کو ناجائز سزائيں سنائي ہيں اور مزيد لوگوں کو محض حکومت مخالف مظاہروں ميں حصہ لينے کے جرم ميں سرکاري نوکريوں سے برخاست کرديا گيا ہے۔انہوں نے ملک ميں جاري مذاکراتي عمل کے بارے ميں کہا کہ بحرين کے انقلابي حقيقي نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کا مطالبہ کرتے چلے آرہے ہيں جبکہ حکومت بدستور بحران سازي اور مذاکرات کو ناکام بنانے پر تلي ہوئي ہے۔
.......
/169