ابنا: ریڈیو تہران کی رپورٹ کے مطابق شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے مدرسہ امام سجاد (ع) ایوب چوک جھنگ صدر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹارگٹ کلنگ کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ کوئٹہ، عباس ٹاؤن اور دیگر واقعات فرقہ وارنہ نہیں اور نہ ہی پاکستان میں کوئی شیعہ سنی مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ چند بیرونی ایجنٹ ہیں جو اسلام کا لبادہ اوڑھ کر دہشت گردانہ کاروائیاں کر رہے ہیں اور ان واقعات کو فرقہ وارنہ رنگ دے کر شیعہ سنی بھائیوں کو آپس میں دست وگریبان کرانا چاہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم ایسے عناصر کی بھرپورمذمت کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ شیعہ سنی آپس میں بھائی ہیں لیکن بیرونی ایجنڈے پر چلنے والا شدت پسند تکفیری ٹولہ ملک میں بدامنی پھیلا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت دہشت گردی کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام رہی اور دہشت گردوں کے خلاف سنجیدگی سے کاروائیاں نہیں کی گئیں، جس کی وجہ سے یہ عناصر مضبوط ہوئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/242
انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت دہشت گردی کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام رہی اور دہشت گردوں کے خلاف سنجیدگی سے کاروائیاں نہیں کی گئیں، جس کی وجہ سے یہ عناصر مضبوط ہوئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/242