11 مارچ 2013 - 20:30

افغانستان کے صدر نے ملک کي يونيورسٹيوں کے غاصب امريکي فوجيوں اور نيٹو کے اہلکاروں کے داخلے کو ملکي اقتدار اعلي اور قوانين کے منافي قرار ديتے ہوئے غير ملکي فوجي کمانڈ کو حکم ديا ہے کہ وہ اس قسم کے واقعات کي اعادہ سے گريز کرے-

ابنا: صدر حامد کرزئي نے نيٹو فوجيوں کے ملک کي بعض يونيورسٹيوں پر چھاپے اور طلبہ کي گرفتاريوں اور انہيں تشدد کا نشانہ بنائے جانے کي مذمت کرتے ہوئے کہا کہ يہ اقدام حکومت افغانستان اور نيٹو کے درميان ہونے والے معاہدے کي کھلي خلاف ورزي ہے-

افغانستان کے ايوان صدر کي جانب سے جاري ہونے والے بيان ميں ملک کے تمام سيکورٹي اداروں کو جن ميں وزرات داخلہ، دفاع اور انٹيلي جينس بھي شامل ہے، حکم ديا گيا ہے کہ وہ تمام تعليمي اداروں ميں غير ملکي فوجيوں اور ان کے ساتھ کام کرنے والے افغانيوں  کے داخلے کي روک تھام کريں-

اس حکم کے مطابق اگر کوئي بھي غير ملکي فوجي يا ان کے ساتھ کام کرنے والے افغان اہلکار يونيورسٹيوں  اور ديگر تعليمي اداروں کے احاطے ميں زبردستي داخل ہونے کي کوشش کريں تو انہيں گرفتار کر کے عدالت کے حوالے کرديا جائے-صدر حامد کرزئي نے يہ حکم سي آئي اے کے اہلکاروں کے ہاتھوں ايک افغان طالبعلم کي گرفتاري اور اس پر تشدد کے واقعے کے بعد ديا ہے-صدر حامد کرزئي نے مذکورہ طالبعلم کي گرفتاري کي مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو غلط اور غير منطقي قرار ديا ہے-صدر حامد کرزئي کے ترجمان ايمل فيضي نے کہا ہے کہ ايوان صدر کي مداخلت کے بعد سي آئي نے مذکورہ طالبعلم کو رہا کرديا ہے-اگرچہ امريکي حکام يہ دعوي کرتے ہيں کہ سي آئي آے کو حکم ديا گيا ہے کہ وہ افغان انٹيلي جينس اداروں کي پوري ہماہنگي کے ساتھ کاروائي کرے ليکن صدر کرزئي کے بيان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امريکي خفيہ ادارہ دہشتگردي کے خلاف جنگ کي آڑ ميں اپنے مجرمانہ اقدامات کا سلسلہ جاري رکھے ہوئے ہيں

حقيقت يہ ہے کہ  قابض فوجيوں کے ملک کي يونيورسٹيوں ميں داخل ہونے کا معاملہ حکومت افغانستان کے لئے بہت بڑا چيلنج بنا ہوا ہے  اور اب غير ملکي فوجيوں کے ہاتھوں ايک طالبعلم کي گرفتاري کا معاملہ فريقين کے درميان کشيدگي ميں اضافے کا باعث بن سکتا ہے- کيونکہ افغانستان کے عوام کو توقع ہے کہ انکي حکومت ملکي اقتدار اعلي کي حفاظت اور عوام کے تحفظ کے حوالے کسي قسم کي لچک کا مظاہرہ نہيں کرے گي بلکہ امريکيوں کي خودسرانہ پاليسیوں پر روک لگانے کے لئے موثر اقدامات عمل ميں لائے گي-

.....

/169