8 مارچ 2013 - 20:30

بحرینی عوام آل خلیفہ کی ڈکٹیٹر اور استبدادی حکومت کے خلاف اپنی تحریک کو وسعت دینے اور بحرین میں آل سعود حکومت کی تسلط پسندی اور قبضے کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو تیز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بحرین سے موصولہ خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ بحرینی عوام آل خلیفہ کی ڈکٹیٹر اور استبدادی حکومت کے خلاف اپنی تحریک کو وسعت دینے اور بحرین میں آل سعود حکومت کی تسلط پسندی اور قبضے کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو تیز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں بحرین کے انقلابی گروہوں اور جماعتوں نے عوام کو بحرین میں سعودی عرب کے فوجی دستوں کی آمد کو دو سال کا عرصہ پورا ہونے کے موقع پر وسیع پیمانے پر مظاہرے کرنے کی دعوت دی ہے۔واضح رہے کہ بحرین میں عوامی تحریک کو کچلنے میں بحرینی فورسز کی ناکامی کے بعد سعودی عرب نے اپنے فوجیوں کو چودہ مارچ دو ہزار گیارہ کو امریکہ اور آل خلیفہ حکومت کی ہری جھنڈی سے بحرین میں داخل کر دیا اور انہوں نے بحرینی عوام کے احتجاج کو کچلنے میں آل خلیفہ کی سکیورٹی فورسز کی بھرپور مدد کی۔ لیکن آل خلیفہ کی حمایت میں آل سعود کے فوجیوں کی بحرین آمد بھی آل خلیفہ کی کمزور پوزیشن کو مضبوط نہ بنا سکی بلکہ بحرین میں عوامی تحریک میں مزید تیزی آ گئي ہے۔ سعودی عرب کے اس اقدام سے علاقے کی قوموں میں آل سعود کے خلاف نفرت میں مزید اضافہ ہو گيا ہے۔واضح رہے کہ حالیہ برسوں کے دوران علاقے میں اسلامی بیداری کی لہر پیدا ہونے کے بعد سعودی حکام نے نہ صرف اس کو اپنے ملک میں آنے سے روکنے کی پوری کوشش کی بلکہ انہوں نے مختلف طریقوں سے دوسرے عرب ممالک میں اسلامی بیداری کی لہر کی روکنے کے لیے بھی اقدامات انجام دیے کہ جو علاقے کی تبدیلیوں میں ان کے منفی کردار کی عکاسی کرتا ہے۔مغرب کی ڈکٹیٹ شدہ پالیسیوں کے تناظر میں علاقے میں آل سعود کی ڈکٹیٹر حکومت کے سازشی اقدامات کے باعث اس حکومت کا نہ صرف اپنے ملک کے عوام بلکہ علاقے کی رائے عامہ میں بھی کوئی مقام نہیں ہے۔بہرحال بحرین میں آل سعود کے تسلط پسندانہ اقدامات صرف فوجی سطح پر ہی نہیں ہیں بلکہ وہ مختلف طریقوں سے اپنی تسلط پسندانہ پالیسیاں بھی بحرینی عوام پر مسلط کر رہی ہے اور کچھ عرصہ قبل بحرین کے سعودی عرب سے الحاق کی سعودی تجویز نے بھی بحرین کے بارے میں اس کے عزائم کو واضح کر دیا تھا۔ان تمام باتوں پر بحرینی عوام نے بھرپور ردعمل ظاہر کیا ہے اور وہ اپنی تحریک میں تیز لا کر آل خلیفہ کی ڈکٹیٹر اور خائن حکومت اور اس کے استبدادی نظام سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اپنے وطن کو غیرملکی تسلط سے آزاد کرا کے وہاں ایک عوامی جمہوری حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔...................242/