اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا۔ پاکستان میں مظلوم اور بے سہارا شیعوں کے قتل عام اور بحرین میں آل خلیفہ کے ظلم و بربریت کے حوالے سے مراجع کرام نے اپنے اپنے بیانات میں ان واقعات کی مذمت کی ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شیعوں کے حفاظت کے لیے کوئی موثر قدم اٹھائے۔آیت اللہ العظمی وحید خراسانی: آل محمد(ص) کے یتیم پاکستان میں قتل عام ہو رہے ہیںآیت اللہ العظمی وحید خراسانی نے وہابیت کے جرائم کی مذمت کرتے ہوئے کہا: پاکستان اور بحرین کے شیعوں کے لیے پورے حوزہ علمیہ کو عزا میں بیٹھنا چاہیے جو مظلومانہ طریقہ سے قتل عام ہو رہے ہیں۔انہوں نے آج قم میں مسجد اعظم میں اپنے درس تفسیر کے دوران پاکستان میں شیعوں کے قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا: آل محمد (ص) کے یتیموں کا پاکستان میں قتل عام ہو رہا ہے یہ جو مارے جا رہے ہیں عورتیں، مرد، بچے بوڑھے ان کا کیا قصور ہے؟ صرف اس لیے کہ یہ اہلبیت رسول (ص) کےچاہنےوالے ہیں؟شیعوں کے مرجع تقلید نے کہا: لیکن ہم نے کیا کیا؟ ان کے مقابلہ میں ہمارا عکس العمل کیا تھا؟آیت اللہ وحید خراسانی نے اقوام متحدہ کے منشور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اقوام متحدہ میں دوسری عالمی جنگ کے بعد ۳۰ شقوں پر مشتمل ایک منشور تیار ہوا جس کی پہلی شق میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ تمام حکومتیں اس کو عمل میں لانے پر مکلف اور موظف ہیں اور کوئی اس کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا۔انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ اس منشور کے مطابق امریکہ کے صدر اور پاکستان کے کسی کونے میں رہنےوالی ایک خاتون کے حقوق یکساں ہیں کہا: یہ وہ قانون ہے جس کے عمل پر تمام ممالک کے حکمران مکلف ہیں اور اس کی رعایت کرنے پر موظف ہیں۔انہوں نے اس منشور کی تیسری شق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس شق کے مطابق تمام انسانوں کو حق حاصل ہے کہ وہ آزاد زندگی کریں، اور ان کی جانی و مالی حفاظت کی جائے۔ کیا پاکستان اور بحرین کے شیعہ آرام و سکون سے ہیں؟ کیا اقوام متحدہ اپنے بنائے ہوئے اس منشور کی پابند ہے؟ اس کا ان جرائم کے مقابلہ میں کیا عکس العمل ہے؟آیت اللہ وحید خراسانی نے کہا: جو چیز تعجب آور ہے وہ یہ ہے کہ اس منشور کی دیگر شقوں کے مطابق تمام انسان چاہے وہ کسی رنگ و روپ کے ہوں کسی مذہب و ملت کے ماننے والے ہوں بغیر تفریق کے آزاد و اپنے حقوق کے مالک ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسلحہ بھیج کر اپنے مزدوروں کو پیسہ دے کر عورتوں، بچوں اور جوانوں کا قتل عام کرتے ہیں۔ کیا اس طرح کے جرائم کے ساتھ اقوام متحدہ کی کوئی عزت باقی رہتی ہے؟انہوں نے واضح کیا: اس اقوام متحدہ میں جو حقوق انسانی کی حمایت کے لیے تشکیل دی گئی ہے کتنی حکومتیں حق وٹو رکھتی ہیں؟ وہ حکومتیں جو انسانیت کی نابودی کے لیے اسلحہ بیچتی ہیں اور انسانوں کو قتل کرنے کے لیے مزدور بناتی ہیں وہی حق وٹو بھی رکھتی ہیں۔حضرت آیت اللہ وحید خراسانی نے امیر المومنین (ع) کی نگاہ میں حقوق بشر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ہم نے پہلا حقوق بشر پر مشتمل منشور لکھا ہے ان کے لیے نہایت شرم کی بات ہے جو وہ یہ کہتے ہیں۔ یہ کہاں اور امیر المومنین علی (ع) کا بنایا ہوا منشور کہاں؟ علی کے قبضے میں اسلامی ممالک کے علاوہ پورے روم اور ایران کی حکومت بھی تھی اس کے بعد جب مسلمانوں میں بیت المال کو تقسیم کرتے تھے تو جتنے دینار امام حسن کو دیتے تھے اتنے ایک غلام حبشی کو دیتے تھے۔آیت اللہ مکارم شیرازی: پاکستانی حکمران اگر شیعوں کی جان کی حفاظت نہیں کر سکتے تو استعفی دے دیں۔آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے بھی آج مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران پاکستان میں شیعوں کے قتل عام اور کراچی میں ہونے والے حالیہ بم دھماکوں کی شدید مذمت کی۔انہوں نے اس حادثہ کو ایک عظیم سانحہ قرار دیا اور کہا: کچھ روز قبل کوئٹہ میں تکفیری وہابیوں نے ایک بہت بڑی خباثت انجام دی اور کتنے مسلمانوں کو خاک و خون میں رنگین کیا۔ اور اب کراچی میں ویسی حرکت کر کے دسیوں بے گناہ مظلوم شیعوں کو زندگی سے محروم کیا۔انہوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ ہم ان جرائم کے مقابلہ میں خاموش نہیں رہ سکتے اور ان کی مذمت کریں گے کہا کہ تمام مراجع تقلید اور حوزہ ھای علمیہ کے مسئولین ۹ مارچ سنیچر کے دن پورے حوزہ علمیہ میں چھٹی کر کے مسجد اعظم میں ایک عظیم احتجاجی اجتماع کریں گے اور اس واقعہ کی مذمت کریں گے۔آیت اللہ مکارم شیرازی نے تاکید کی: پاکستانی حکومت کو ہمارا پیغام یہ ہے کہ اگر اپنے ملک کے شہریوں کی حفاظت نہیں کر سکتے تو حکومت کے عہدوں کو چھوڑ دیں اور اپنی پوسٹوں کو انہیں دے دیں جو اس کام کی توانائی رکھتے ہیں۔حوزہ علمیہ کے برجستہ استاد نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ دنیا کے تمام شیعوں کو ان واقعات پر اعتراض کرنا چاہیے کہا: یہ کون سا طریقہ ہے کہ کچھ وحشی قسم کے لوگوں کو دنیا میں کھلا چھوڑ رکھا ہے جو جہاں چاہتے ہیں کوئی نہ کوئی درندگی وجود میں لاتے ہیں اور بے گناہ لوگوں کو خاک و خون میں لت پت کرتے ہیں۔انہوں نے تاکید کی: اسلامی جمہوریہ ایران کو بھی ڈٹ کر اعتراض کرنا چاہیے اور اس طرح کے مسائل کے پاس سے چپکے سے نہیں گذر جانا چاہیے بلکہ شور مچانا چاہیے۔آیت اللہ جوادی آملی: ہم سب پاکسانی شیعوں کے لیے عزادار ہیںآیت اللہ العظمی جوادی آملی نے پاکستانی شیعوں کے کشت و کشتار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان واقعات کے سد باب کرنے پر تاکید کی۔انہوں نے بھی مسجد اعظم میں اپنے درس تفسیر کے دوران سنیچر کے دن تمام مراجع و علماء کے ساتھ مسجد اعظم میں پاکستانی شیعوں کے ساتھ سوگ میں بیٹھنے کی تائید کی اور یہ کام بہت ضروری سمجھا اور کہا: ہم سب پاکستان کے مظلوم شیعوں کے ساتھ سوگوار اور عزادار ہیں۔حضرت آیت اللہ جوادی آملی نے کہا: اس طرح کے واقعات کا سد باب کرنے کے لیے تین کام انجام دینا پڑیں گے:پہلا یہ کہ شیعہ کلچر کو بغیر افراط و تفریط کے رائج کیا جائے۔ دوسرا یہ ہے کہ مجمع تقریب مذاہب کے سرپرست، وہابی، سلفی، طالبان اور القاعدہ کے علماء کے ساتھ گفتگو کریں اور ان کے ساتھ اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے مذاکرات کریں۔انہوں نے تیسرا کام اسلامی جمہوریہ ایران کی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر روز شیعہ کہیں نہ کہیں مارے جاتے ہیں یہ ایٹمی انرجی کے مسئلہ سے کم مسئلہ نہیں ہے ہمارے سیاسی عہدہ داروں کو چاہیے کہ مختلف طرح کی نشستیں جیسے پانچ جمع ایک، ایک جمع دو، دو جمع تین، وغیرہ منعقد کر کے ان واقعات کے بارے میں بھی بات کریں۔ اور دوسرے ممالک کے سیاستمداروں کو بھی ان مسائل میں دخیل کریں تاکہ کوئی سیاسی راہ حل پیدا ہو۔ کوئی ایسا دن نہیں گذرتا جس دن کسی نہ کسی کے قتل ہونے کی خبر نہ ملے۔آیت اللہ سبحانی: یہ واقعات اسلامی اور انسانی سماج کی خاموشی کا نتیجہ ہیںآیت اللہ العظمی سبحانی نے بھی پاکستان میں ہونے والے دھشتگردانہ واقعات کی مذمت کرتے ہوئے انہیں اسلامی اور انسانی سماج کی خاموشی کا نتیجہ قرار دیا۔انہوں نے بھی آج اصول فقہ کے درس خارج میں مسجد اعظم میں پیغمبر اکرم (ص) کی ایک روایت سے استناد کرتے ہوئے کہا: تمام مسلمان ایک بدن کے اعضا کے مانند ہیں اور ہر مسلمان کے دکھ درد کے مقابلہ میں دوسرا مسلمان بھی رنجیدہ ہوتا ہے۔حضرت آیت اللہ سبحانی نے ان واقعات کو دشمن کی طرف سے شیعوں کو ختم کرنے کی سوچی سمجھی سازش قرار دیتے ہوئے کہا: کچھ دن پہلے کوئٹہ میں شیعوں کو خون میں رنگین کیا اور دو دن پہلے کراچی میں مظلوم شیعوں کا قتل عام کیا۔ اور ہر آئے دن بھی کہیں نہ کہیں سے کسی کے قتل کی خبر آتی ہے۔انہوں نے مزید کہا: کیوں اسلامی سماج کے ضمیر خوابیدہ ہیں؟ کیوں مصر اور باقی اسلامی ممالک میں کوئی ان کرائم کے خلاف نہیں بولتا؟ انسانی سماج کے ضمیر بھی مردہ ہیں اور اسلامی سماج کے بھی۔ ایک ارب مسلمان کہاں ہیں؟ حقوق بشر کا نعرہ لگانے والے کہاں ہیں؟آیت اللہ العظمی سبحانی اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ اقوام متحدہ کا کیا صرف اتنا کام ہے کہ وہ ان واقعات کی فقط مذمت کرکے بیٹھ جائے کہا: اس مقدار تک مذمت تو ایک بوڑھیا بھی کر سکتی ہے پس اقوام متحدہ بنانے کی کیا ضرورت تھی؟آیت اللہ سبحانی نے پاکستانی حکومت کو بھی مقصر ٹھہراتے ہوئے کہا: وہ حکومت جو اپنے شہریوں کی جانوں کی حفاظت نہ کر سکے اسے حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ کئی سالوں سے یہ سلسلہ جاری ہے اور ہر بار پاکستانی عہدہ دار وعدہ دیتے ہیں کہ ہم ان واقعات کا سد باب کریں گے لیکن کچھ بھی کرتے ہوئے نظر نہیں آتے۔انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ میں سب سے زیادہ پاکستانی حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتا ہوں کہا: مجھے امید ہے کہ میری یہ بات ان کے کانوں تک پہنچے گی کہ وہ بارگاہ خداوندی میں جوابدہ ہیں۔آیت اللہ سبحانی نے ایرانی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ ان مسائل کے بارے میں غور و فکر کرے اور ان کا سد باب کرنے کے لیے کوئی ٹھوس قدم اٹھائے۔آیت اللہ نوری ہمدانی: وہابیت جہان اسلام کی سب سے بڑی مصیبت ہے آیت اللہ حسین نوری ہمدانی نے بھی پاکستان میں حالیہ دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سلفی عناصر علاقے کے بعض ممالک کی مالی اور تشہیراتی حمایت سے پاکستان کے شیعہ مسلمانوں کا قتل عام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان، عراق، اور شام و پاکستان جیسے ملکوں میں گمراہ فرقہ وہابی شیعہ مسلمانوں کا قتل عام کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سامراج اور گمراہ افراد کی سازشوں کا نتیجہ ہے۔آیت اللہ ھمدانی نے وہابیت کو عالم اسلام کی بڑی مشکل قراردیا۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ ان مجرمانہ کاروائيوں پر احتجاج کریں۔انہوں نے بھی بروز سینچر تمام مراجع اور علماء کے ساتھ مل کر صدائے احتجاج بلند کرنے اور وہابیت کے اس غیر انسانی عمل کی مذمت کرنے پر تاکید کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پایان ۲۴۲
6 مارچ 2013 - 20:30
News ID: 397537
آیت اللہ وحید خراسانی: پاکستان اور بحرین کے شیعوں کے لیے جنہیں مظلومانہ طریقہ سے قتل کیا جاتا ہے پورے حوزہ علمیہ کو عزا منانا چاہیے ۔ آیت اللہ جوادی آملی: ہمارے ملک کے سیاسی لیڈر مختلف طرح کی نشستیں جیسے ۵+۱، ۲ + ۱، ۳+ ۲ وغیرہ منعقد کرتے ہیں انہیں ان موضوعات کے لیے بھی ایسی کوئی نشست رکھنا چاہیے۔ آیت اللہ مکارم شیرازی: پاکستان کے حکمران اگر شیعوں کی حفاظت کرنے سے قاصر ہیں تو حکومت کو کسی ایسے کے حوالے کریں جو اس بات پر قادر ہو۔آیت اللہ سبحانی: یہ واقعات اسلامی اور انسانی سماج کی خاموشی کا نتیجہ ہیں، آیت اللہ نوری ہمدانی: وہابیت جہان اسلام کی سب سے بڑی مصیبت ہے۔