27 فروری 2013 - 20:30

خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ بحرین میں حکومت کے خلاف شدید مظاہرے ہورہے ہیں ، بحرینی حکام عوامی احتجاج کو بری طرح کچل رہے ہیں نیز سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں شیہد ہونے والوں کے جنازوں کو دفن کے لئے ان کے گھر والوں کے حوالے کرنے سے بھی منع کرتے ہیں جس کی وجہ سے عام طور پر بحرینی عوام کے احتجاج میں اضافہ ہوگیا ہے ۔

ابنا: موصولہ اطلاعات کے مطابق بحرین میں حکومت کے خلاف شدید مظاہرے ہورہے ہیں ، بحرینی حکام عوامی احتجاج کو بری طرح کچل رہے ہیں نیز سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں شیہد ہونے والوں کے جنازوں کو دفن کے لئے  ان کے گھر والوں کے حوالے کرنے سے بھی منع کرتے ہیں جس کی وجہ سے عام طور پر بحرینی عوام کے احتجاج میں اضافہ ہوگیا ہے ۔
 حکومت آل خلیفہ شہید ہونے والوں کے جنازوں کو ان کے گھر والوں کے حوالہ کرنے سے اس لئے منع کرتی ہے تاکہ بحرین کے شہریوں پر آل خلیفہ حکومت کےمظالم زیادہ فاش نہ ہوسکیں ۔
آل خلیفہ  کی انسانیت مخالف  اور ظالم حکومت  کے خلاف لوگوں میں روز بروز نفرت وبیزاری بڑھتی جارہی ہے ،لوگ اعتراض آمیز احتجاج کو جاری رکھکر  آل خلیفہ حکومت کے وحشیانہ اقدامات کے خلاف اپنی نفرت وبیزازی کا اعلان کررہے ہیں ۔ اس سلسلے میں لوگوں نے بحرینی حکام کی طرف سے گذشتہ ہفتے مظاہرے کے دوران شہید ہونے والے ایک بحرینی کے جنازے کو ان کے گھر والوں کے حوالے نہ کیا جانے  پر زبردست مظاہرہ کیا۔  نیز سنابس ، سماہیج اور سترہ  کے عوام نے سڑکوں پر نکل کر  بحرینی حکام سے محمود عیسی الجزیری کے جنازے کو ان کے گھر والوں کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ بیس سالہ محمود عیسی الجزیری 14 فروری کو انقلاب بحرین کی دوسری سالگرہ کے موقع پر نبی صالح علاقے میں مظاہرے کے دوران سیکورٹی فورسز  کی طرف سے سر میں گولی لگنے سےشہید ہوگئے ۔
قابل ذکر ہے کہ انقلاب بحرین کی دوسری سالگرہ کی مناسبت سے ہونے والے مظاہروں کے موقع پر سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں ایک عورت سمیت تین افراد شہید ہوگئے ۔
انقلاب بحرین فروری دوہزار گیارہ سے  خطے میں بڑھتی ہوئی اسلامی بیداری سے متائثر ہوکرشروع ہوا ہے اور اس وقت سے  لیکراب تک مسلسل آل خلیفہ حکومت کے خلاف جاری ہے اوراس میں روز بروز  شدت ہی آتی جاری رہی ہے ۔بحرینی عوام نے ابتدا میں سیاسی اصلاحات اور مشروط حکومت کی تشکیل کے بارے میں آل خلیفہ حکومت کے خلاف مظاہرہ  کیا ،چنانچہ جب حکومت نے نہ صرف ان کے مطالبات نہیں مانے بلکہ مظاہرین کو بری طرح سے کچل دیا گیا تو  یہ مظاہرےحکمراں خاندان کی سرنگونی کے مطالبے میں تبدیل ہوگئے ۔
بہرحال آل خلیفہ حکومت کے خلاف جاری مظاہروں سے پتہ چلتاہے کہ آل خلیفہ حکومت کی سرکوب پر مبنی پالیسیاں بحرینی عوام کے ارداوں میں خلل ایجاد نہیں کرسکی ہے ۔ بحرین میں حکومت کے خلاف وسیع پیمانے پر مظارے ہورہے ہیں اور حکومت مخالف افراد ہر ممکن طریقے سے آل خلیفہ کی ڈکٹیٹر حکومت کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں اور حکومت کے امتیازی برتاؤ اور وحشیانہ اقدامات کو برملا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔اس سلسلے میں مجلس بحرین میں بھی حالیہ دنوں میں نمایندوں نے حکومت  کے خلاف اعتراض کیاہے ۔
مجلس بحرین کے نمایندوں نے پارلیمنٹ کے اندر 14 فروری کو مظاہرے کے دوران شہید ہونے والے نوجوان کی لاش کو ان کے گھر والوں کے حوالہ کئے جانے کا مطالبہ  کیا جس کی وجہ  سے پارلیمنٹ میں ایک بار پھر ہنگامہ ہوگیا ۔
مجلس بحرین میں محمود عیسی الجزیری کی لاش کو تحویل دینے کے بارے میں حکومت مخالف  نمایندے علی شمطوط کی درخواست کے بعد ایک بار پھر ہنگامہ ہوگیا ۔ علی شمطوط اپنے ہاتھ میں ایک پلا کارٹ اٹھا ئے ہوئے تھے جس پر لکھا ہوا تھا کہ مردے کے احترام کی شرط یہ ہے  اس کی لاش دفن کردی جائے ،انھوں نے آل خلیفہ حکومت کی سیکورٹی فورسز کے ذریعہ الجزیری کی شہادت کو ملت اور ملک کے خلاف ظلم قرار دیا اور کہا کہ آل خلیفہ حکومت لوگوں کے مطالبات کا تشدد کے ساتھ جواب دیتی ہے ۔ مختلف تبدیلیوں سے پتہ چلتاہے کہ عوامی اعتراضات کا دامن اتنا وسیع ہوگیا ہے کہ اس نے ملک کی پارلینٹ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے حتی پارلیمنٹ بھی حکومت کے مظالم کے خلاف احتجاج میں تبدیل ہوگئی ، بحرین  میں بڑھتی ہوئی عوامی تحریک سے پتہ چلتا ہے کہ  آل خلیفہ حکومت بحرین پر وقت  سے پہلے اپناکنٹرول کھوچکی ہے ،