المآتی مذاکرات کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران نے ایک بیان میں ان مذاکرات کو مثبت قرار دیتے ہوئے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ مقابل فریق کی جانب سے تعمیری اقدامات عمل میں لاتے ہوئے مذاکرات کے اس عمل کو مکمل کئے جانے کی ضرورت ہے ۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران نے 6 ماہ قبل گروپ 1+5 کو ماسکو میں جو تجاویز پیش کی تھیں المآتی میں اس گروپ نے ایران کی ان تجاویز کے جواب میں کچھہ تجاویز پیش کی ہیں جن میں ایران کی پیش کردہ کچھ تجاویز بھی شامل ہیں اور کسی حد تک ان تجاویز کے ذریعے ایران کے نظریات سے قریب ہونے کی کوشش کی گئی ہے ۔ایران نے اپنے بیان میں تاکید کے ساتھہ کہا ہے کہ مسئلے کے حل کیلئے ایسی دو طرفہ تجاویز پر عمل کی ضرورت ہے کہ جن سے ایران کے حقوق ،نظر انداز نہ ہوسکیں ۔فریقین کے درمیان مذاکرات کا اب اگلا دور المآتی میں ہی 5/ اور 6/ اپریل ہو منعقد ہوگا ۔ان مذاکرات کے بعد قزاقستان کے وزیر خارجہ اور ایران کی قومی سلامتی کی اعلی کونسل کے سکریٹری جناب سعید جلیلی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں قزاقستان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ مذاکرات کا اگلا دور 5/ اور 6/ اپریل کو المآتی میں ہی ہونا مثبت علامت ہے ۔ اس ملاقات میں فریقین نے دو طرفہ اور خاصطور سے سیکیورٹی اور اقتصادی شعبوں میں تعلقات کے فروغ کی ضرورت پر تاکید کی ۔
26 فروری 2013 - 20:30
News ID: 395226
الماتی مذاکرات کے بعد سعید جلیلی نے اپنے بیان میں آلماتی مذاکرات کو ایران کے حق میں مثبت قرار دیا۔