19 فروری 2013 - 20:30

حکومت پاکستان اورمجلس وحدت مسلمین کےدرمیان کامیاب مذاکرات کےبعد پورے پاکستان میں دھرنوں اورمظاہروں کاسلسلہ ختم کردیاگیا ہے اورٹارگٹ آپریشن شروع کردیاگیاہے جوفوج کررہی ہے مذاکرات کےدوران حکومت نے کمیونٹی پولیس نظام متعارف کرانےکافیصلہ کرلیا ہے۔

ابنا:  کوئٹہ سے موصولہ اطلاعات کےمطابق پاکستان کےوزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی جانب سے وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ کی سربراہی میں چھ رکنی کمیٹی، سانحہ ہزارہ ٹاون میں شھید ہونے والے افراد کے لواحقین اور شعیہ مسلمانوں سے اظہار یکجہتی،  دھرنا ختم کرنے اور شہداے کےجنازوں کی تدفین کے لئے آمادہ کرنے کے لئے کوئٹہ پہنچی تھی۔کمیٹی کی یقین دہانی کے بعد مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما علامہ امین شہیدی نے یکجہتی کونسل کےرہنماؤں کے ہمراہ کوئٹہ سمیت ملک بھر میں دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا۔مجلس وحدت مسلمین اورحکومتی نمائندوں کےدرمیان مذاکرات کےدوران اس بات پراتفاق ہوگیاہے کہ دہشتگردوں کونیست ونابود کرنےکےلئے ہرممکن اقدامات کئےجائيں گےپاکستان کےوفاقی وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ کےمطابق  ٹارگٹد آپریشن کے دوران چار افراد مارے گئے ہیں اور ایک سو ستر افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔دیگر ذرائع کے مطابق گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی، وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ اور پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین ندیم افضل سمیت 6 رکنی ٹیم نے مجلس وحدت مسلیمن اور ہزارہ کمیونٹی کے افراد سے ملاقات کےبعدوفاقی وزير قمرالزمان کائرہ نے اعلان کیاکہ ملک بھر میں مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے تک یہ آپریشن جاری رہے گا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ حکومت نے ہمارے تمام مطالبات مان لئے ہیں۔ حکومتی وفد کے ساتھ ہمارے مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں۔ اورشہداء کو سپرد خاک کردیاگیا ہے ۔ ہم نےکوئٹہ فون کرکے مجلس وحدت مسلمین کےڈپٹی سکریٹری جنرل علامہ امین شہیدی سےتازہ ترین صورت حال جانناچاہی توان کاکہنا تھا ۔۔۔۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کےخلاف دہشتگردی کاآخری واقعہ ہوگا؟ اور حکومت نے جووعدے کئےہيں ان پر وہ پوری طرح عمل بھی کرےگی ؟ یہ وہ سوال ہے جوآج ہرانصاف پسندمسلمان کےدل ودماغ ميں گونج رہا ہے کیونکہ اصل مسئلہ دہشتگردانہ افکار کےحامل افراد اور دہشتگرد گروہوں کی حمایت ہے چنانچہ تحریک اسلام پاکستان کےسربراہ نے ایک انٹرویو میں پاکستان کی بعض سفیدپوش شخصیات کی جانب سے طالبان کی سرپرستی اورطالبانی فکر کی حمایت جاری رکھنےکاالزام لگایاہے۔لہذا جب تک دہشتگردانہ فکرکےحامل افراد اوردہشتگردوں کولگام نہيں لگائی جاتی اس وقت تک پاکستان ميں فرقہ وارانہ دہشتگردی کاخاتمہ ممکن نظرنہيں آتا اوریہی وجہ ہے کہ پاکستان میں سانحہ کوئٹہ کےسلسلے میں جاری دھرنےاورمظاہروں کاسلسلہ توختم کردیاگیا لیکن دنیاکےدوسرےعلاقوں میں پاکستان میں سانحہ کوئٹہ کےسلسلےمیں بالخصوص اور پاکستان میں آئےروز دہشتگردانہ واقعات اورشیعہ ٹارگٹ کلنگ کےخلاف بالخصوص دنیاکےمختلف علاقوں میں دھرنوں اورمظاہروں کاسلسلہ جاری ہے۔چنانچہ امریکہ، یورپ، ہندوستان اورافغانستان کی طرح اسلامی جمہوریہ ایران میں کےدارالحکومت تہران میں بھی احتجاجی مظاہرہ کیاگیاجس میں ایران کےمختلف شہروں سےبڑی تعداد میں عوام اورعالمی دینی درسگارہ حوزہ علمیہ قم میں موجود ہندوستانی اورپاکستانی طلاب نے بڑی تعداد میں حصہ لیا ۔تہران میں پاکستانی سفارتخانہ کےسامنےہونےوالےمظاہرےکی تفصیلات میں نےمعلوم کی ہیں مظاہرےمیں موجود یوشع ظفرسے۔یہ تھے یوشع ظفر جوتہران میں واقع پاکستانی سفارتخانےکےسامنےاحتجاجی مظاہرے اوردھرنےکی تفصیلات بتارہےتھے۔واضح رہے کہ ہفتہ کے روز کوئٹہ کے علاقے کیرانی میں ہونے والے 1000 کیلو گرام کے خوفناک بم دھماکے میں 114 شیعہ مسلمان شھید اور 200 سے زائد زخمی ہوئے جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ھیں۔