ابنا: ایران کے صدارتی ہاؤس کے پریس دفتر کی رپورٹ کے مطابق صدرمملکت ڈاکٹر احمدی نژاد نے کل رات پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک کی ملاقات میں کہا کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات مستحکم اور ترقی پذیر ہیں اور دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات میں خاطر خواہ ترقی حاصل ہوئی ہے۔ڈاکٹر احمدی نژاد نے سیکوریٹی کے لحاظ سے ایران اور پاکستان کی مشکلات کو مشترک اور بیرونی ممالک کی مداخلت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران – اسلام آباد کا سیکوریٹی معاہدہ، دونوں ممالک اور علاقے کے مفاد میں ہے۔صدرمملکت نے ایران کی جانب سے پاکستان کا ہمیشہ ساتھ دینے پر تاکید کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ پاکستانی حکومت کی کوششوں سے اس ملک میں بدامنی پیدا کرنے کےلئے دشمنوں کی سازشیں ناکام ہونگی۔ڈاکٹر احمدی نژاد نے ایران اور پاکستان کے مشترکہ منصوبوں بالخصوص بجلی اور گیس منصوبوں پر عملدرآمد کےلئے ایرانی اور پاکستانی حکام کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے ہمسایہ اور دوست ملک کو اینرجی کے بحران سے نکالنے کےلئے ہرممکن کوشش کرے گا۔اس ملاقات میں پاکستان کے وزیرداخلہ رحمان ملک نے دونوں ممالک کے درمیان سیکوریٹی معاہدے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ، اسلامی جمہوریہ ایران کو اپنا سچا دوست سمجھتا ہے جس نے نازک حالات پر ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے پاکستان میں دہشتگردی اور امریکی ڈرون حملوں کو اس ملک کے عوام اور حکومت کی سب سے بڑی پریشانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک خطے کے اہم ممالک بالخصوص ایران ، پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیکوریٹی کے شعبے میں قریبی تعاون نہ ہو علاقے میں امن واستحکام قائم نہیں ہوگا ۔
.......
/169