ابنا: سانحہ کوئٹہ میں بلوچستان انتظامیہ ملوث ہے اگر مسلح افواج نے مداخلت نہیں کی تو حالات کسی اور رخ پر چلے جائیں گے جعفریہ یوتھ کے زیر اہتمام سانحہ کریانی روڈ اور بلوچستان انتظامیہ کی بے حسی کے خلاف اتوار کو احتجاجی ریلیوں انعقاد کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پورے ملک میں شیعہ نسل کشی پر حکومت قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں سپریم کورٹ جو ہر گلی محلے کے مسئلہ پر از خود نوٹس لیتی ہے مگر شیعہ نسل کشی پر خاموش ہے آرمی چیف نے بھی اس حساس مسئلہ پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا . مگر اب ظلم کی انتہا ہو چکی ہے حکومت کو عوام کی فکر نہیں وہ اپنا اقتدار بچانے میں لگی ہوئی ہے سانحہ کربلاء کوئٹہ کی ذمہ داری کوئٹہ میں تعینات ایف سی اور قانون نافذ کرنے والے ایجنسیوں پر ہے حکومت دہشت گردوں کو لگام دینے کے بجائے مذاکرات میں لگی ہوئی ہے حکومت ادارے اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں کان کھول کر سن لیں اب دہشت گرد اور ان کے سرپرستوں کو چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی مسلح افواج اگر ملک بچانے میں سنجیدہ ہیں تو بلا تاخیر دہشت گردوں کے خلاف کریک ڈاون کریں۔ اگر اب تاخیر کی گئی تو پھر حالات کی ذمہ داری پاکستان کے تمام اداروں پر ہوگی ۔
.......
/169