15 فروری 2013 - 20:30

ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں کل ساتویں دن سخت کرفیو کے باوجود کشمیری عوام نے ایک بار پھر افضل گورو کی پھانسی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے ۔

ابنا: سرینگر سے رپورٹ کے مطابق وادی کشمیر کے چھوٹے بڑے شہروں میں سخت کرفیو کے باوجود سرینگر کے کئی علاقوں میں لوگوں نے اپنا احتجاج درج کیا جبکہ وادی کے درجنوں مقامات پر جلوس بھی نکالے گئے اور مظاہرے ہوئے ۔ متعدد مقامات پر پولیس نے طاقت کا استعمال کرکے آنسوگیس کے گولے پھینکے جبکہ بعض علاقوں میں مظاہرین پر گولی بھی چلائی گئی جبکہ پولیس نے متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔رپورٹ کے مطابق سرینگر کے سبھی حصوں اور علاقوں میں پولیس اور فورسز نے کرفیو کو سختی سے نافذ کردیا اور جمعہ کے روز بیشتر چھوٹی بڑی مساجد میں نماز جمعہ ادا نہیں کی جاسکی ۔ اسکے باوجود شہر کے کئی علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ۔ مظاہرین نے شیراز چوک ،نائید کدل ،نوہٹہ ،گوجوارہ اور نالہ مار میں افضل گورو کے حق میں اور ان کی نعش کی واپسی کیلئے نعرے بازی کی جبکہ متعدد مقامات پر غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی ۔بتایا جاتا ہے کہ کائوڈارہ میں شام کے وقت نوجوانوں اور فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں ۔کشمیر کے بڈگام ،سوپور ،ہنڈوارہ،کپوارہ، بانڈی پورہ، بارہمولہ اور متعدد دوسرے اضلاع میں بھی سخت احتجاج کی اطلاع ہے۔ہندوستان کے دارالحکومت نئی دہلی میں بھی سینکڑوں کشمیری نوجوانوں نے کل احتجاج  مظاہرہ کیا۔

.......

/169