12 فروری 2013 - 20:30

صدر باراک اوباما: آئندہ سال 34 ہزار امریکی فوجی افغانستان سے واپس آجائیں گے، ان کا کہنا تھا فوجیوں کے خروج کا یہ عمل جاری رہے گا اور آئندہ سال کے اختتام تک افغانستان میں جنگ ختم ہوجائے گی

اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر باراک اوباما نے منگل کی شب کانگریس سے اپنے سالانہ اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں کہا ہے کہ ایرانی رہنما جان لیں کہ ایران کے ایٹمی مسئلے کے سفارتی حل کا وقت آن پہنچا ہے، کیونکہ بین الاقوامی سطح پر ایک اتحاد موجود ہے جو ان سے یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے وعدوں پر عمل کریں۔ امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ایران کو ایٹم بم بنانے سے روکنے کے لئے جو کچھ بھی ضروری ہوا، امریکہ وہ انجام دینے کے لئے تیار ہے۔ افغانستان کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے امریکہ صدر کا کہنا تھا کہ آج رات میں یہ اعلان کرسکتا ہوں کہ آئندہ سال 34 ہزار امریکی فوجی افغانستان سے واپس آجائیں گے، ان کا کہنا تھا فوجیوں کے خروج کا یہ عمل جاری رہے گا اور آئندہ سال کے اختتام تک افغانستان میں جنگ ختم ہوجائے گی۔ مبصرین کا خیال ہے کہ 2014ء کے اختتام تک امریکہ افغانستان سے پوری طرح اپنی افواج کا انخلاء نہیں کرے گا، کیونکہ پینٹاگون افغانستان پر اپنا دباو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ اس وقت امریکہ کے 66،000 فوجی افغانستان میں موجود ہیں، جبکہ 2010ء میں ان کی تعداد 100،000 تھی۔ گذشتہ ماہ امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے افغان ہم منصب حامد کرزئی کے ساتھ مذاکرات کئے تھے، جس میں یہ طے پایا تھا کہ اب افغان فوجی امریکی فوجیوں کی جگہ لیں گے اور یہ عمل گرمیوں سے شروع ہوکر موسم بہار تک مکمل ہو جائیگا۔ 2001ء امریکی سربراہی میں افغان جنگ شروع ہوئی تھی، حملہ آورں نے طالبان حکومت کا خاتمہ کیا تھا، لیکن اس کے بعد امریکی سربراہی میں بہت بڑی فوج ہونے کے باوجود افغانستان ناامنی کا شکار ہوگیا تھا۔