8 فروری 2013 - 20:30

پاکستان کے قبائلی علاقے میں امریکی ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد11 ہو گئی۔

 ابنا: پشاور سے رپورٹ کے مطابق شمالی اور جنوبی وزیرستان کے قبائلی علاقوں کو ملانے والے گاؤں میں 6 امریکی ڈرون طیاروں نے شدت پسندوں کے ٹھکانے پر متعدد میزائل داغے جس کے نتیجے میں 11افرادہلاک جبکہ پانچ سے زائد زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت نہیں ہوسکی تاہم کہا جا رہا ہے کہ ان میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ اس سے قبل ہلاکتوں کی تعداد 9 تھی ۔ یاد رہے کہ امریکی ڈرون حملوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا جارہا ہے تاہم اس کے باجود پاکستان میں ڈرون حملے معمول کے مطابق جاری ہیں۔ برطانوی ادارے کی رپورٹ کے مطابق 2004 سے اب تک پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کے نتیجے میں 3ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں زیادہ تر تعداد عام شہریوں کی ہے۔ دوسری جانب امریکی ارکان سینیٹ نے ڈرون حملوں کی منظوری کے لیے ڈرون کورٹ کے قیام کی تجویز پیش کی ہے غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق ”ڈرون کورٹ“ کے قیام کی تجویز گزشتہ روز سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی اجلاس کے موقع پر سامنے آئی۔ سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی میں سی آئی اے کے نامزد سربراہ جان برینن اپنے عہدے کی توثیق کے لیے پیش ہوئے تھے۔ جان برینن کو ڈرون حملوں کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا ہے۔ دوسری جانب وائٹ ہاوٴس کے ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ ڈرون کورٹ کی تجویز کا جائزہ لیا جارہا ہے تاہم مستقبل قریب میں ایسی کسی عدالت کے قیام کا کوئی امکان نہیں۔

.......

/169