5 فروری 2013 - 20:30

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ایران اور مصر کے سربراہان مملکت کی ملاقات کا عالمی ذرائع ابلاغ میں وسیع پیمانے پر انعکاس ہوا ہے۔


 ابنا: فارس نیوز کی رپورٹ کے مطابق مصر اور اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد کے ما بین منگل کے روز مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہونے والی ملاقات پر بی بی سی،وائس آف امریکہ، الجزیرہ، العربیہ سمیت جرمنی،فرانس پاکستان،ھندوستان،اور عرب ممالک کے ریڈیو،ٹیلیویژن اور اخبارات نے خصوصی رپورٹیںنشر اور شائع کیں۔واضح رہے کہ اپنے مصری ہم منصب محمد مرسی کے ساتھ ملاقات میں ایران کے صدرڈاکٹر محمود احمدی نژاد  کا کہنا تھا کہ ایران اور مصر دو بڑے ممالک ہیں، جو سنہری تاریخ اور اعلٰی درجے کے تہذیب و تمدن کے حامل ہیں، ان دونوں ممالک کا اس خطے میں انتہائی اہم سیاسی کردار ہے۔ ڈاکٹر محمود احمدی نژاد کا کہنا تھا کہ مصری اور ایرانی ملت کے درمیان ہمیشہ مثبت روابط رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت کا تقاضا ہے کہ ان دو ملتوں کے درمیان روابط بڑھانے کے لئے اپنی تمام تر توانائیوں سے بھرپور استفادہ کیا جائے۔
ایرانی صدر نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور مصر کے روابط میں توسیع اور باہمی تعاون سے اس خطے میں ایک نئی طاقت وجود میں آئے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران اور مصر اکٹھے ہو جائیں تو بشریت کے بین الاقومی دشمن ان اقوام کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ ڈاکٹر محمود احمدی نژاد کا کہنا تھا کہ ایران اور مصر کے اہداف اور اہم بین الاقوامی مسائل پر مشترکہ موقف ہے۔ غیر وابستہ تحریک میں مصر کے اہم کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صدرمملکت کا کہنا تھا کہ غیر وابستہ تحریک بہت وسیع فورم ہے اور اس فورم میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران، مصر اور دیگر مستقل ممالک اپنے باہمی تعاون کو وسیع کریں تو اس عظیم فورم سے بہت زیادہ فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔
شام کی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ شام کے بحران کے حل کے لئے ایران اور مصر کی بہت زیادہ اہمیت ہے، ان کا کہنا تھا کہ شام میں جاری لڑائی اور قتل و غارت گری سے یہ بحران حل نہیں ہوسکتا، بلکہ اس مسئلہ کو اساسی طور پر حل کرنے کے لئے ہمیں اتفاق نظر پیدا کرنا پڑے گا اور اس مشکل کے حل کے لئے آپس میں تعاون اور ہمکاری کرنی ہوگی ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران اور مصر ہم آہنگ ہوکر کوشش کریں تو اس بحران کا حل نکال سکتے ہیں
اسی طرح مسئلہ فلسطین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صدرمملکت کا کہنا تھا کہ اس اہم موضوع پر بھی ایران اور مصر کے درمیان ہم فکری بہت ضروری ہے۔ اگر مسئلہ فلسطین پر ایران اور مصر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہو جائیں تو یہ مسئلہ فلسطینی عوام کے حق میں حل ہوسکتا ہے۔
 اس ملاقات میں مصری صدر محمد مرسی کا کہنا تھا کہ ایران اور مصر کے روابط اس خطے اور جہان پر تاثیر گزار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ایران اور مصر کے درمیان تمام شعبوں میں تعاون اور ہمکاری انتہائی ضروری اور لازم ہے۔ مصری صدر کا کہنا تھا کہ میں اس لحاظ سے بہت خوش ہوں کہ میں نے خود محترم ایرانی صدر کا استقبال کیا اور ہماری خواہش ہے کہ ان کے اس دورے کے دوران ان اس خطے اور مختلف بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کریں اور ان کے اس دورے سے دوطرفہ روابط کو وسیع اور مضبوط کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ استفادہ کریں۔ محمد مرسی کا کہنا تھا کہ مصری انقلاب کی شرائط اور صورتحال بھی انقلاب ایران جیسی ہیں، جبکہ مصر میں ایران کی طرح تیزی سے ترقی کرنے کے امکانات موجود نہیں ہیں، اس لحاظ سے بھی ہم ایران کے ساتھ روابط اور ہمکاری میں توسیع کو بہت اہم اور ضروری سمجھتے ہیں۔
 
شام کی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مصری صدر کا کہنا تھا کہ شام کے مسئلے کے حل کے لئے ایران کا کردار بہت اہم ہے اور ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ایران کے بغیر شام کا بحران حل نہیں ہوسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس بات پر مکمل یقین ہےکہ شام کے بحران کے حل کے لئے رہبر معظم انقلاب اسلامی، ایرانی صدر اور دیگر مسئولین جو خالصانہ کوششیں کر رہے ہیں، اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
مصری صدر کا کہنا تھا کہ جب دشمنوں کا محاذ موجود ہے تو پھر ان کے مقابلے کے لئے ایک دوسرا محاذ بھی موجود ہونا چاہیئے اور ایسا اسلامی ممالک کے اتحاد اور ہمکاری کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ محمد مرسی کا مزید کہنا تھا کہ  ایران اور مصر کی دو ملتوں اور دیگر اسلامی اقوام کے درمیاں دشمنوں کی تفرقہ اندازی کی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی۔