5 فروری 2013 - 20:30

لاہور - جماعت اسلامی کے زیر اہتمام ملک بھر میں یوم یکجہتی کشمیر پورے جوش و خروش اور جذبے سے منایا گیا ۔کراچی ، لاہور ، اسلام آباد ، کوئٹہ ، پشاور کے علاوہ ملک بھر کے ضلعی صدر مقامات اور چھوٹے بڑے شہروں میں جلسے اور ریلیاں منعقد کی گئیں جن سے جماعت اسلامی کی مرکزی ، صوبائی اور مقامی قیادت نے خطاب کیا۔

ابنا: لاہور میں نیلا گنبد سے ناصر باغ تک کشمیری مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور بھارت مخالف ریلی نکالی گئی جس کی قیادت امیر جماعت اسلامی لاہور میاں مقصود احمد نے کی ۔ ریلی میں ہزاروں خواتین اور بچے شریک تھے ۔ ناصر باغ پہنچ کر ریلی بہت بڑے جلسہ عام کی صورت اختیار کر گئی ۔ جلسہ سے امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منورحسن ، حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین ، میاں مقصود احمد اور ذکر اللہ مجاہد نے خطاب کیا۔ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے سید منورحسن نے کہاکہ 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منا کر کشمیری عوام پر کوئی احسان نہیں کررہے ۔ کشمیری پاکستان کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ 65 سال سے بھارت نے ہماری شہ رگ دبوچ رکھی ہے جسے ہندوؤں کے خونی پنجہ سے آزاد کرانے کے لیے لاکھوں کشمیریوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھارت کے ساتھ مذاکرات سے انکار نہیں لیکن ایسے مذاکرات کو ہر گز قبول نہیں کریں گے جو اصل مسئلے کو پس پشت ڈال کر آلو پیاز کی تجارت کرنے کے لیے کیے جائیں ۔ پاکستان کی فوجی و سیاسی حکومتوں نے بار بار مذاکرات کیے 62 ء میں چھ ماہ تک پنڈی ، کلکتہ ، کراچی میں میراتھن مذاکرات ہوتے رہے مگر بھارت نے ’’ میں نہ مانوں ‘‘اور ’’کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے ‘‘ کی رٹ نے کوئی نتیجہ نہ نکلنے دیا ۔ بھارت نے ہمیشہ مذاکرات کی آڑ میں دھوکہ دیا ۔ 65 سال بعد تو اب حکمرانوں کو عقل آ جانی چاہیے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے اور گھی نکالنا ہوتو انگلیاں ٹیڑھی کرناہی پڑتی ہیں ۔ سید منورحسن نے کہاکہ ابھی کشمیری عوام اور نوجوان صبر و ضبط سے اقوام متحدہ کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔ انہوں نے بھارت کا رخ نہیں کیا مگر ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکاہے ۔ بھارت کو کان کھول کر سن لیناچاہیے کہ جدید جنگی ٹیکنالوجی اور دنیا کی سب سے بڑی فوجی قوت کے زعم میں مبتلا روس کی طرح بھارت کو بھی ٹکڑوں میں بکھرتے دیر نہیں لگے گی ۔ سید منورحسن نے کہاکہ پاکستان کے فوجی و نام نہاد جمہوری حکمرانوں نے ہمیشہ کشمیر کاز کو نقصان پہنچایا ۔ بھارت نے نہ صرف کشمیری عوام کی آزادی کو بندوق کی نوک پر دبا رکھاہے ، بلکہ دریاؤں پر بند باندھ کر پاکستان کو بنجر بنانے اور بلوچستان میں انتشار پھیلا کر پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کر نے کی مذموم سازشوں میں مصروف ہے ۔ سید منورحسن نے کہاکہ جنرل مشرف نے کشمیر کاز کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا جس نے بھارت سے تجارت شروع کی اور موجودہ حکومت اس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے کی باتیں کر رہی ہے ۔سید منورحسن نے قوم سے اپیل کی کہ کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے جذبے میں دن بدن اضافہ ہونا چاہیے جس کے لیے ہر دن کو پانچ فروری بنانا ہوگا۔سپریم کمانڈر حزب المجاہدین سید صلاح الدین نے کہاکہ کشمیری عوام نے آزادی کی جدوجہد اپنی قوت بازو پر شروع کی ہے جو مکمل آزادی کے حصول تک جاری رہے گی ۔ عالمی قوتوں کی سرد مہری اور پاکستانی حکومتوں کا غیروں والا سلوک ہمارے عزم و حوصلے کو شکست نہیں دے سکتا۔ بھارت نے پاکستان کو 16 سال قبل پسندیدہ ملک قرار دیا لیکن پاکستانی حکمران غیور پاکستانی قوم کے خوف سے آج تک بھارت کو پسندیدہ ملک قرار نہیں دے سکے اور نہ کشمیر کی آزادی تک ایسا ممکن ہے جو یہ منصوبے لے کرچل رہے ہیں وہ کشمیری شہدا سے غداری کے مرتکب ہورہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں مہنگائی ، بے روزگاری ، بجلی و گیس اور تیل کے بحرانوں کا براہ راست اثر ہماری تحریک آزادی پر پڑتاہے۔ بھارت پاکستان میں مسجدوں اور امام بارگاہوں کو خون میں نہلا اور بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک کی سرپرستی کر رہاہے۔سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے کہاکہ کشمیریوں سے انسانیت اور اسلام کا رشتہ ہے۔ کشمیریوں اور پاکستانیوں کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں ۔ قائد اعظم نے کشمیر کو شہ رگ قرار دیا یہ حقیقت نوشتہ دیوار ہے کہ کشمیر پاکستان کا ہے بھارت کشمیریوں پر مظالم کی انتہا کر رہاہے ۔ لاکھوں کشمیری قربانیاں دے چکے اور لاکھوں کشمیری ہر قربانی کے لیے تیار ہیں ۔ کشمیریوں کی پرامن جدوجہد کو بھارت طاقت سے کچلنا چاہتاہے لیکن برطانیہ ، روس اور امریکہ کی طرح ناکامی اور ذلت بھارت کا مقدر بنے گی ۔
.......
/169