4 فروری 2013 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے کہا ہے کہ گروپ پانچ جمع ایک کو پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی سے استفادے پر مبنی ایران کے حقوق کو تسلیم کرنا ہو گا۔

ابنا: وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے سوئٹزرلینڈ کے ایک اخبار " ٹیگز اینزیگر " کو دئیے گئے اپنے انٹرویو میں کہا کہ مغرب کو این پی ٹی معاہدے کے دائرے میں پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی سے استفادے پر مبنی، جس میں یورینیم کی افزودگی بھی شامل ہے، ایران کے حقوق باضابطہ طور پر تسلیم کرنے چاہئیں۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ باراک اوما حکومت اپنے دوسرے دور میں ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں نیک نیتی کا مظاہرہ کرے گي تاکہ ایٹمی مذاکرات کے سلسلے میں اتفاق رائے پیدا ہوسکے۔ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جب تک گروپ پانچ جمع ایک مذاکرات میں مثبت اور غیرسیاسی رویہ اختیار نہیں کرے گا تب تک اسلامی جمہوریہ ایران اکیلے ان مذاکرات کی کامیابی کے سلسلےمیں کوئی اقدام نہیں کرسکتا۔
علی اکبر صالحی نے شام کے بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایران بحران شام کے پرامن حل اور غیر ملکی مداخلت کے بغیر عبوری حکومت کی تشکیل کے لئے مخالفین اور صدر بشار اسد کے درمیان  مذاکرات کا خواہاں ہے۔