ابنا: لندن میں دو دن کی سہ فریقی کانفرنس میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری ، افغانستان کے صدر حامد کرزئی اور برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون شریک ہوں گے ۔ کانفرنس کا موضوع بحث ، افغانستان امن عمل ہے نیز علاقائی صورتحال کا بھی اس کانفرنس میں جائزہ لیا جائے گا ۔ دو فریقی اجلاس یا کئی فریقی اجلاس ، دھشتگردی سے نمٹنے میں اختلافات کم کرنے اور تعاون کے فروغ کےبارے میں کابل ، اسلام آباد کے سینئر حکام کے مذاکرات کے لئے زمین ہموارکرنے میں جدت عمل کا حصہ ہے ۔ علاقائی اور عالمی اجلاس بھی ، افغانستان و پاکستان کے لئے مذاکرات اور تبادلہ خیال کے مواقع و ذرائع ہیں ۔ اس سلسلہ میں ، گذشتہ سال 2012 عیسوی کےستمبرمہینے میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے ضمن میں افغانستان اور پاکستان کے اعلی حکام نے دوفریقی اور سہ فریقی اجلاس میں تبادلہ خیال کیا تھا ۔ اس اجلاس کا ایک مقصد ، افغانستان و پاکستان کے سوق الجیشی تعاون سمجھوتے طے کرنے کےلئے زرداری اور کرزئی کس درمیان اتفاق رائے تھا ۔ البتہ ابتک اس کو آخری شکل نہیں دی گئی ہے ۔ افغانستان میں، پاکستان کے ساتھہ سوق الجیشی تعاون سمجھوتے کے منصوبے پر نکتہ چینی کی گئی ہے اور ناقدین اس سمجھوتے کو کابل کے بارے میں اسلام آباد کی پالیسیوں کےشفاف ہوئے بغیر بے فائدہ سمجھتے ہیں ۔ ایسے حالات میں لندن ، افغانستان اور پاکستان کے سربراہوں اور برطانوی وزیراعظم کے اجلاس کا میزبان ہے تاکہ علاقائی سیکورٹی مسائل اور خاص طورپر افغانستان میں اس عمل کے بارے میں بات چیت ہوسکے ۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مذاکرات یا جنگ کے ذریعے دھشتگردی پر قابو پانے کےلئے مشترکہ تعاون کے بارے میں کابل اسلام آباد کے حکام کے تبادلہ کے مقصد سے ایسے اجلاسوں کا انعقاد خاصا مفید ہے ۔ لیکن اس وقت جب فریقین میں باہمی اعتماد عنقا بن چکا ہے اس قسم کی کا نفرنس کا انتہائی نصب العین حاصل نہ ہوگا ۔ افغانستان میں آرام وسکون اور استحکام، جوپاکستان کے تعاون سمیت علاقائی و عالمی امداد پر انحصارکےساتھہ ہو ، کابل اسلام آباد اعلی حکام کے ان مشترکہ اجلاس کا سب ے بڑا نصب العین ہے ۔ جن کی غرض سے بعض ممالک میزبانی کرتے ہیں ۔ یہ زاویہ نگا ہ پیش پیش ہے کہ اگر افغانستان کے امن عمل اور قومی صلح و صفائی کے پروگرام فروغ کےلئے افغانستان کی امداد کی ضرورت کے بارے میں پاکستان کی حکومت و فوج کی پاکستان میں متحدہ پالیسی نہ اپنائی جائے تو ، کابل اسلام آباد کے ذمہ دار حکام کے مذاکرات ، کسی مفید بتیجے تک نہیں پہنج پائیں گے ۔ البتہ بعض حالات کے سبب ، افغانستان میں امن وامان کی برقراری کےعمل میں ، پاکستان کے ساتھہ افغانستان کے مزید سنجیدہ و ٹھوس تعاون کا امکان بڑھ جائے گا ۔ طالبان کےساتھہ مذاکرات میں امریکہ کے کردار میں کمی اور ہندوستان کےساتھہ رقابت میں ، حکومت کے ساتھہ تعاون کے ذریعے ، افغانستان میں اثرورسوخ میں اضافہ دو ایسے تبدیلی لانے والے فیکٹرز ہیں جواسلام آباد کو ، افغانستان میں قومی امن و آشتی کے پروگرام پر عملدرآمد کےلئے کابل کے ساتھہ موثر شراکت کے لئے ترغیب دلا سکیں گے ۔ البتہ پاکستان کی حکمران جماعت پیپلزپارٹی کی باقیماندہ مختصر مدت ، اور اس ملک میں آئندہ انتخابی عمل کے آغاز کے پیش نظر ، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لندن سہ فریقی کانفرنس سے اسلام آباد کی طرف سے ٹھوس عملی ضمانت، نہیں مل سکے گی ۔
.......
/169