1 فروری 2013 - 20:30

حقائق کو مسخ کرنے اور رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے سلسلے میں صہیونی ریاست کے نئے اقدامات پر فلسطینیوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ مقدسات کے دفاع کے لیے آزادی و استقلال کمیٹی کے سربراہ شیخ تیسیر رجب التمیمی نے مسجد الاقصی کو شہید کرنے کے لیے صہیونی ریاست کی سازش کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

ابنا: شیخ التمیمی نے ایک پریس کانفرنس میں مسجد الاقصی کی شہادت اور اس کی جگہ یہودی عبادت خانے کی تعمیر کے بارے میں ایک فلم کی تیاری اور اسے نشر کرنے کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ قدس کی غاصب حکومت بین الاقوامی معاہدوں اور قوانین کی کھلی خلاف ورزی کر کے اس مسجد کو شہید کرنے کی سازش کر رہی ہے۔فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے بھی اس فلم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صہیونیوں کا یہ اقدام مسجد الاقصی کے خلاف غاصب صہیونیوں کے منصوبے کا ایک حصہ ہے۔سیاسی مبصرین کا یہ خیال ہے کہ صہیونی ریاست مشرق وسطی کے بحرانی حالات سے غلط فائدہ اٹھا کر یہ سوچ رہی ہے کہ ایسے حالات میں رائے عامہ کی نظریں دوسرے ملکوں کے حالات پر لگي ہوئي ہیں اس لیے علاقے میں اپنی تسلط پسندانہ اور غاصبانہ پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے لیے یہ بہترین موقع ہے۔ جبکہ صیہوصہیونی ریاست کے اقدامات پر بین الاقوامی اداروں کی خاموشی اور مغرب کی جانب سے صہیونی ریاست کی بڑھتی حمایت نے اسے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اپنے جرائم اور مظالم کو جاری رکھنے کے سلسلے میں مزید شہہ دی ہے۔صہیونی ریاست نے مسجد الاقصی کو شہید کرنے اور اس پر یہودی عرب عبادت گاہ تعمیر کرنے کے سلسلے میں پروپیگنڈا مہم شروع کر دی ہے۔ اسی سلسلے میں اس نے بیت المقدس کی ایسی تصاویر شائع کی ہیں جن میں مسجد الاقصی کا وجود ہی دکھائی نہیں دیتا ہے۔ بلکہ اس کی جگہ ایک یہودی عبادت خانہ نظر آ رہا ہے۔دوسری صہیونی ریاست کی بعض جماعتوں نے مسجد الاقصی کو دھماکے سے تباہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور بعض صہیونی لیڈروں نے کہا ہے کہ صہیونی ریاست کا دارالحکومت قدس ہو گا۔صہیونیوں کے تند و تیز بیانات اور مسجد الاقصی کے خلاف پروپیگنڈے میں تیزی سے ظاہر ہوتا ہے کہ صہیونی اس مقدس مسجد کے خلاف خطرناک سازش کر رہے ہیں اور اس پر جلد از جلد عمل درآمد کے لیے راستہ ہموار کر رہے ہیں۔ایسے حالات میں مسلمانوں خاص طور پر عالمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ صہیونی ریاست کو مسجد الاقصی کے خلاف اس سازش پر عمل درآمد کرنے سے روکیں اور اگر ایسا نہ کیا گيا تو صہیونی ریاست اس سے بھی بڑے جرائم کا ارتکاب کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔

.......

/169