ابنا:مصر کے دار الحکومت قاہرہ میں صدر مرسی کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں اور پولیس کے درمیان صدراتی محل کے باہر جھڑپیں ہوئیں۔ پچھلے ایک ہفتے سے مصر کے مختلف شہروں میں صدر مرسی کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں جن میں ساٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
جمعہ کے روز قاہرہ میں صدارتی محل کے باہر جمع مظاہرین نے صدر مرسی کے خلاف نعرے بلند کیے۔اس کے بعد چند مظاہرین نے پٹرول بم صدارتی محل کی دیوار کے اوپر سے اندر پھینکنے شروع کردیے اور سڑکوں پر آگ لگا دی۔پولیس نے پتھر اور پٹرول بم پھینکنے والے مظاہرین کو صدارتی محل سے پیچھے دھکیلنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
میدان تحریر کے قریب بھی جھڑپوں کی اطلاعات ہیں جہاں مرسی کے خلاف ہزاروں افراد جمع ہوئے۔ دوسری جانب ہزاروں افراد نے پورٹ سعید میں میں بھی مظاہرے کیے۔
مظاہرین ملک کے صدر محمد مرسی پر الزام عائد کرتے ہیں کہ انہوں نے 2011 کے انقلاب کے ساتھ بغاوت کی ہے لیکن صدر مرسی اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔
نامہ نگار کے مطابق محمد مرسی کے حمایتیوں کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر لوگوں کو لا کر پہلی جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جمعہ کے روز قاہرہ میں صدارتی محل کے باہر جمع مظاہرین نے صدر مرسی کے خلاف نعرے بلند کیے۔اس کے بعد چند مظاہرین نے پٹرول بم صدارتی محل کی دیوار کے اوپر سے اندر پھینکنے شروع کردیے اور سڑکوں پر آگ لگا دی۔پولیس نے پتھر اور پٹرول بم پھینکنے والے مظاہرین کو صدارتی محل سے پیچھے دھکیلنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
میدان تحریر کے قریب بھی جھڑپوں کی اطلاعات ہیں جہاں مرسی کے خلاف ہزاروں افراد جمع ہوئے۔ دوسری جانب ہزاروں افراد نے پورٹ سعید میں میں بھی مظاہرے کیے۔
مظاہرین ملک کے صدر محمد مرسی پر الزام عائد کرتے ہیں کہ انہوں نے 2011 کے انقلاب کے ساتھ بغاوت کی ہے لیکن صدر مرسی اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔
نامہ نگار کے مطابق محمد مرسی کے حمایتیوں کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر لوگوں کو لا کر پہلی جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔