29 جنوری 2013 - 20:30

ان کا کہنا تھا کہ: مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے زیر اہتمام آل پارٹیز امن کانفرنس قیام امن کے سلسلے میں ایک سنجیدہ کوشش ہے؛ امیدہے کہ اس مثبت کوشش کا ہر سطح پر خیر مقدم کیا جائے گا، تاکہ امن دشمن یعنی انسانیت دشمن عناصر کو تنہا کیا جا سکے۔

ابنا: بلوچستان میں طویل عرصے سے جاری دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے سانحات پر عوام شدیدپریشان تھے؛ رئیسانی حکومت میں شامل 4درجن سے زائد وزراء اور مُشیئر ساڑھے چار سال کے طویل عرصے میں عوام کو تحفظ دینے کی بجائے ملکی دولت کو لوٹنے اور کرپشن میں مصروف رہے؛ نااہل اور ظالم رئیسانی حکومت کے خاتمے پر بلوچستان کے عوام نے سُکھ کا سانس لیا۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا: عوام کو اس بات پر تعجب ہے کہ جن لوگوں نے سینکڑوں معصوم انسانوں کے قتل عام پر چُپ کا روزہ رکھا تھا وہ اپنے اقتدار کے خاتمے پر کس طرح سراپا احتجاج بن گئے۔ کاش اس طویل عرصے میں معصوم انسانوں کے قتل عام کے خلاف اور مظلوموں کی حمایت میں کسی احتجاجی تحریک کا اعلان کیا جاتا۔
گورنر راج کے دوران جب صوبائی اسمبلی معطل ہے اس کے اجلاس غیر آئینی اور غیر قانونی ہیں یہ اسمبلی اپنی افادیت کھو چکی ہے اسمبلی کی بحالی کی کوئی سازش کی گئی تو عوام اس اسمبلی کا گھیراؤ کر یں گے اور ساڑھے چار سال کے مظالم پر حکمران ٹولے سے جواب طلبی کریں گے اور ملک گیر احتجاج کی ایک نئی تاریخ رقم کریں گے۔
انھوں نے کہا: ہم سمجھتے ہیں کہ دہشتگردی کی آگ کو بجھانے کیلئے بلوچستان کی تمام سیاسی، مذہبی جماعتیں مل کر کردار ادا کریں۔
انھوں نے کہا: مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے زیر اہتمام آل پارٹیز امن کانفرنس قیام امن کے سلسلے میں ایک سنجیدہ کوشش ہے؛ امیدہے کہ اس مثبت کوشش کا ہر سطح پر خیر مقدم کیا جائے گا، تاکہ امن دشمن یعنی انسانیت دشمن عناصر کو تنہا کیا جا سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110