اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ لبنان کے سربر اہ نے تاکید کے ساتھ کہا کہ فوج ، قوم اور تحریک مزاحمت کے در میان تعاون، لبنان میں استحکام اور سلامتی کا ضامن ہے اور اسرائیل کے حالیہ انتخابات اس حکومت میں بحران کی نشاندہی کر تے ہيں۔حزب اللہ لبنان کے سربر اہ نے انتخابات میں کسی ایک پار ٹی کو اکثر یت نہ ملنے کی جانب اشار ہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ حالات اس حکومت کے اندر بحر ان کے عکاس ہیں کیونکہ ان انتخابات میں کسی بھی پارٹی کو اتنی طاقت نہيں ملی جو سیاسی مرکزیت یاقیادت کا کردار ادا کر سکے۔سیدحسن نصراللہ نے تاکید کے ساتھ کہا کہ اسرائیلی انتخابات کا بہترین جواب مزاحمت پر سختی سے ڈٹے ر ہنا ہے اور سب کو ایک دوسر ے کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے تا کہ فلسطینی مزاحمت طاقتور ہوسکے اور لبنان کی مزاحمتی طاقت میں بھی اضافہ ہو۔انھوں نے کہاکہ اسرائیلی جماعتوں میں کوئی فر ق نہيں ہے چاہے وہ بائيں بازو کی ہوں یادائیں بازو کی، ان میں اور جنگ کے بار ے ميں اسرائیل کی تمام پارٹیاں کینہ پرور اور حریص ہیں اور ان میں باہم کوئی فرق نہيں ہے اور ہمیں اس سلسلے میں دھوکہ نہيں کھانا چاہئے۔حزب اللہ لبنان کے سربراہ کی جانب سے صہیونیت مخالف مزاحمت پر تاکید علاقے کے حالات کے بارے میں ان کی ہوشیاری اور باریک بینی کی عکاس ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ علاقے کی قوموں کی مزاحمت نے کبھی بھی صہیونی ریاست میں سیاسی تبدیلی پر اعتماد نہيں کیا ہے اور آئندہ بھی نہيں کریں گی۔حزب اللہ لبنان کے سربراہ سیدحسن نصراللہ نے ایک باپھر اس حقیقت کوآشکار کر دیا ہے کہ صہیونی ر یاست کے بڑھتے ہوئے خطر ے کے مقابلے کاواحدر استہ مزاحمت وپائدار ی ہے ۔صہیونی ریاست کی تاریخ اور کارکردگی سے پتہ چلتاہے کہ بائيں بازو، دائيں بازو یا معتدل گر وہ کے بر سر اقتدار آنے پر حکومت کی توسیع پسندی اور جر ائم کاسلسلہ جار ی رہا ہے۔اور اس موقف سے پتہ چلتا ہے کہ صہیونی ریاست میں مختلف سیاسی رجحانات اور توسیع پسندانہ پالیسیاں، کسی سیاسی جماعت کے بر سر اقتدار آنے سے تبدیل نہيں ہوتیں اور ان کے مذموم عزائم اور حکمت عملی میں میں کوئی فرق نہيں آتا۔صہیونی ر یاست کی موجودہ صورت حال اس بات کی بھی عکاس ہے کہ حکومت سازی کے سلسلے میں وہ کسی نتیجے میں پر نہيں پہنچ پا رہی ہے اور یہ فلسطینی اور لبنانی عوام کے مقابلے میں صہیونی ر یاست کی ناکامی کا نتیجہ ہے۔علاقے کے عوام کے لئے صہیونیت کے خلاف مزاحمت کے مثبت نتائج کے باوجود فلسطین اور لبنان جیسے مختلف علاقوں میں مغر ب سے وابستہ دھڑوں کی کوشش ہے کہ صہیونیت کے مد مقابل علاقے کے اس مضبوط عنصر کو دیوار سے لگا دے۔لبنانی مزاحمت کے خلاف بالخصوص چودہ مار چ نامی گروہ کے بعض رہنماؤں کی سازشیں مغرب کی ہماہنگی سے انجام پا رہی ہیں جس پر لبنانی عوام اور اس ملک کی سیاسی شخصیتیں شدید تنقید کر رہی ہیں۔صہیونی ر یاست اور اس کی ہمنوا حکومتوں نیز لبنان میں ان کے ایجنٹوں کی سازشوں کے سلسلے میں سید حسن نصراللہ کے بیانات اور اسرائیل کے انتخابی نتائج پر بھروسہ نہ کر نے پر تاکید قابل غور ہے۔حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے کہا ہے کہ ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں گستاخی اور توہین کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔شیعت نیوز کے نمائندے کی لبنان سے بھیجی گئی رپورٹ کے مطابق جمعہ کی شب سید حسن نصر اللہ نے مجمع سید الشہداء (ع) میں ولادت با سعادت پیغمبر اکرم (ص) کی مناسبت سے منعقدہ عظیم الشان اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دنیا بھر کے مسلمانوں اور انسانوں کو رسول اکرم حضرت محمد مصطفی(ص) کی ولادت با سعادت کے موقع پر مبارکباد پیش کی۔شرکائے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ حضرت محمد (ص) جوکہ پوری کائنات کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ۔آپ (ص) ہی وہ شخصیت ہیں کہ جنہوں نے عربوں اور عجموں اور کالے اور گورے کے درمیان فرق کو ختم کیا اور واضح کیا کہ تمام لوگ برابر ہیں خواہ وہ مرد ہوں یا عورتیں ۔حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ چند جاہل اور نا عاقبت اندیش لوگ کتابوں اور فلمی ذرائع کے ذریعے ایسی عظیم شخصیت کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے دنیا کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ ناموس رسالت (ص) کے عنوان سے میں پوری دنیا کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ آئیں اور بات چیت کریں ۔سید حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کی جانب سے پیغمبر اکرم (ص) کی شان میں گستاخی کے خلاف رد عمل انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور مسلمانوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کائنات کی عظیم ترین ہستی کے خلاف ہونے والی گھناؤنی سازشوں کے خلاف سخت احتجاج کریں اور دنیا کو بتا دیں کہ ناموس رسالت(ص) پر دنیا کی ہر چیز قربان کی جا سکتی ہے لیکن مسلمان اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ پیغمبر ختمی مرتبت (ص) کی شان میں گستاخی اور توہین آمیز رویہ اختیار کیا جائے۔حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے مزید کہا کہ اسرائیل پہلے سے زیادہ کمزور ہو چکا ہے اور وہ وقت دور نہیں کہ اسرائیل کی نابودی پوری دنیا مشاہدہ کرے گی۔سید حسن نصر اللہ کاکہنا تھا کہ عرب حکومتیں فلسطینیوں سے دھوکہ کر رہی ہیں اور خطے میں شیعہ وسنی تفرقہ کی بات کر کے اسلام کو نقصان پہنچانے کی سازشیں کر رہی ہیں جبکہ خطے میں شیعہ اور سنی کا کوئی مسئلہ موجود نہیں ہے۔سید حسن نصر اللہ کامزید کہنا تھا کہ حزب اللہ اپنے ہتھیار کسی صورت نہیں پھینکے گی اور غاصب اسرائیل کے خلاف اس کی نابودی تک مزاحمت جاری رکھے گی۔......./169 ـ 110بشکریہ از ریڈیو تہران و شیعت نیوز
25 جنوری 2013 - 20:30
News ID: 385011
سیدحسن نصراللہ نے ہفتہ وحدت کی مناسبت سے جنوبی لبنان کےمضافات میں سیدالشھداء کامپلکس میں منعقدہ ایک تقریب سےخطاب کرتےہوئے صہیونی ریاست کےداخلی بحران اور مسلمانوں کےخلاف صہیونی ریاست کی سازشوں کی وضاحت کی/ انھوں نے کہا: پیغمبر اکرم (ص) کے خلاف ہونے والی کسی بھی گستاخی کو برداشت نہیں کر سکتے،ناموس رسالت (ص) سب کچھ قربا ن کر دیں گے۔