23 جنوری 2013 - 20:30

سیکرٹری داخلہ کیپٹن (ر) اکبرحسین درانی نے کہاہے کہ ٹارگٹ کلنگ، اغوأ برائے تاوان اوردہشت گردی کے واقعات کی روک تھام اوران میں ملوث عناصر کی گرفتاری کیلئے 300 سے زائد اہلکاروں پر مشتمل خصوصی فورس قائم کردی گئی ہے۔

ابنا: سیکرٹری داخلہ نے کہاکہ حکومت دہشت گردی سمیت امن وامان کے حوالے سے درپیش دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے اوراس مقصد کیلئے پولیس اورلیویز فورس کو فری ہینڈ دینے کے ساتھ ساتھ تمام ضروری سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ خصوصی فورس کے قیام سے دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور اغوأ برائے تاوان جیسے گھناؤنے جرائم پرقابو پانے میں مددملے گی اوران میں ملوث عناصر اوران کے سرپرستوں کے خلاف بھرپور کاروائی کو ہر صورت یقینی بنایاجائے گا۔سیکرٹری داخلہ نے کہاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوام کے اعتماد کی بحالی ہماری اولین ترجیح ہے اوریہ اسی صورت میں ممکن ہے جب یہ ادارے بہترین کارکردگی کامظاہرہ کرتے ہوئے امن وامان کے قیام کوممکن بنائیں گے۔انہوں نے کہاکہ کسی کواس غلط فہمی میں نہیں رہناچاہیے کہ وہ قانون سے بالاتر کوئی اقدام کرکے یا پھر قانون شکنی کا مرتکب ہوکر قانون کی گرفت سے بچ سکتا ہے ہر شخص خواہ کتنا ہی با اثرکیوں نہ ہو قانون سے بالاتر نہیں اس حوالے سے پولیس، ایف سی اور لیویز کو واضح طور پرہدایت کردی گئی ہیں کہ وہ کسی کے سیاسی اثر یا کسی قسم کے دباؤ میں آئے بغیر اپنے فرائض سرانجام دیں۔ سیکرٹری داخلہ نے کہاکہ اس حقیقت کے پیش نظر کہ دہشت گرد اورسماج دشمن عناصر تربیت یافتہ اورجدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں حکومت پولیس اورلیویز کو بھی ہر قسم کا اسلحہ اور ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کیلئے اقدامات کررہی ہے تاکہ موثر انداز سے دہشت گردوں کا مقابلہ کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110