ابنا: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سابق وزیراعلیٰ سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ سے بلوچوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوا گورنرراج سے پہلے بھی ڈیرہ بگٹی‘ مستونگ‘ کوہلو سمیت دیگر علاقوں میں آپریشن جاری تھا اور وہ اب بھی جاری ہے صوبائی حکومت کے خاتمہ کے بعد وزراء نے جو لوٹ مار اور کرپشن شروع کی ہوئی تھی صرف وہ بند ہوئی ہے باقی تمام معاملات معمول کے مطابق چل رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بات منگل کی شب نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا امن وامان کی صورتحال اب بھی پہلے جیسی ہے بلوچستان میں گورنر راج لگایاجائے یا ان ہاؤس تبدیلی لائی جائے بلوچستان کے حالات ٹھیک نہیں ہونگے کیونکہ بلوچستان کے حالات ٹھیک کرنے والے کوئی اور لوگ ہیں جو نہیں چاہتے کہ حالات ٹھیک ہوں۔ انہوں نے کہا پیپلزپارٹی نے پہلے بھی سردار عطاء اللہ مینگل کی حکومت کو ختم کرکے صوبے میں گورنر راج لگایا جب بھی پیپلزپارٹی کو اقتدار ملتا ہے وہ بلوچستان میں یا گورنر راج نافذ کرتی ہے یا بلوچوں کیخلاف آپریشن کرتی ہے۔ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے ساتھ ہی بلوچستان میں جو آپریشن شروع کیا تھا تا حال جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پہلے بھی بلوچوں کی نسل کشی کی جا رہی تھی آپریشن جاری تھا اب بھی یہی ہو رہا ہے صرف صوبے میں گور نرراج کے بعد تنخواہ دار وزراء کو نقصان ہوا ہے اور شاید کرپشن رک جائے جس کا یقین نہیں باقی تمام معاملات پہلے کی طرح چل رہے ہیں کوئی خوش فہمی میں نہ رہے۔ادھر پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے جمعیت ضلع کوئٹہ کے امیر سینیٹر حافظ حمد اللہ نے کہا کہ بلوچستان میں گورنر راج کیخلاف ہم نے احتجاجی شیڈول جاری کیا ہے بیس جنوری کو احتجاجی جلسے جلوس کئے جو کامیاب رہے پچیس تاریخ کو شٹر ڈاؤن اور یکم فروری کو پہیہ جام ہڑتال ہوگی اس دن ایئرپورٹ اور ریلوے اسٹیشن مکمل طور پر بند ہونگے جبکہ پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر میر صادق عمرانی نے کہا کہ بلوچستان میں گورنر راج کا مکمل طور پر خیر مقدم کیا گیا ہے لوگوں نے سابقہ حکومت کی برطرفی کیخلاف مٹھائیاں اور شکرانے کے نوافل ادا کئے ہیں کیونکہ یہ کرپٹ حکومت تھی نیب جن سابقہ وزراء کیخلاف تحقیقات کر رہا ہے یہ اچھا اقدام ہے اس سے آئندہ کیلئے کوئی وزیر کرپشن نہیں کرے گا قانون کے مطابق جو سزا بنتی ہے وہ دی جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
23 جنوری 2013 - 20:30
News ID: 384324
انہوں نے کہا امن وامان کی صورتحال اب بھی پہلے جیسی ہے بلوچستان میں گورنر راج لگایاجائے یا ان ہاؤس تبدیلی لائی جائے بلوچستان کے حالات ٹھیک نہیں ہونگے کیونکہ بلوچستان کے حالات ٹھیک کرنے والے کوئی اور لوگ ہیں جو نہیں چاہتے کہ حالات ٹھیک ہوں۔