ابنا: کراچی میں سر جانی ٹاؤن بانی جلوس اصغر علی اورملیر محمدی ڈیرہ میں معروف سماجی رہنماء حسن ابن حسین کی شہادت کی پر زور مذمت کرتے ہیں حکومت جلد از جلد قاتلوں کو گرفتار کر کے نشانِ عبرت بنائے۔ ان خیالات کا اظہار سیکریٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن علامہ صادق رضا تقوی نے وحدت ہاؤس کراچی سے جاری اپنے مذمتی بیان میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کھل کر بتادے کہ کراچی میں قیام امن اس کے بس کی بات نہیں تو پھر ہم قیام امن اور دہشتگرد عناصر کی سر کوبی کے لئے وہی طریقہ استعمال کر نے کو تیارہیں جو بلوچستان حکومت کے لئے احتیار کیا گیا۔
علامہ صادق رضا تقوی نے مزید کہا کہ سانحہ کوئٹہ اور کراچی میں روزانہ کی بنیادوں پر ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کا ٹھیکہ کسی اور کے پاس نہیں بلکہ ایک ہی کمپنی کے پاس ہے، جو کوئٹہ اور کراچی میں دوعلیحدہ ناموں سے دہشتگرددی میں ملوث ہیں، حکومت گذشتہ پانچ سال سے قاتلوں، دہشتگردوں اور ملک دشمن عناصر کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہی ہے، کالعدم جماعتوں کے کارندے اور سرپرست کھلے عام ایک مخصوص مظلوم مکتب تشیع کو اپنی بربریت کا نشانہ بنا رہے ہیں، ان کالعدم گروہوں کے سرپرست سرعام جلسوں، جلوسوں اور میڈیا کے سامنے شیعہ مکتب کے پیروکاروں کے قتل کی واضح ذمہ داریاں قبول کرتے ہیں مگر افسوس قانون نافذ کر نے والے ادارے اور پاکستان کی آزاد عدلیہ ان تمام باتوں اور حقائق کو جانتے ہوئے بھی کوئی قانونی کردار ادا نہیں کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی اور کوئٹہ میں ایک ہی دہشتگرد گروہ شیعہ سنی مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث ہے۔ مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے کوئٹہ میں ہونے والی شیعہ سنی مسلمانوں کی شہادت کے بعد ملک گیر پر عزم، منظم احتجاجی دھرنوں کے انعقاد اور ان دھرنوں میں تمام مکاتب فکرکے نمائندوں سمیت سیاسی،سماجی ، تنظیموں کی جانب سے کی جانے والی حمایت اور شرکت سے بوکھلا کر ان امریکی ایجنٹوں نے دوبارہ شہر قائد میں شیعہ سنی بے گناہ مسلمانوں کے قتل و غارت کا آغاز کردیا ہے۔ آخر میں انہوں نے شہر قائد میں شہید ہونے والے بے گناہ شہریوں کے قتل کی پر زور مذمت کی اور گورنر ،وزیر اعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کہ وہ خصوصاًاصغر علی اور حسن ابن حسین کے قاتلوں کی جلد از جلد گرفتاری عمل میں لائے۔
.......
/169