16 جنوری 2013 - 20:30

چین نے ایک بار پھر جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی حرمت کے بارے میں امام خامنہ ای کے فتوی پر تاکید کرتے ہوئے اس کو بین الاقوامی دستاویز کے طور پر رجسٹر کرانے کی حمایت کی ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ہانگ لی () نے بدھ (16 جون 2013) کے دن پریس بریفنگ کے دوران کہا: عوامی جمہوریہ چین جوہری ہتھیاروں کی حرمت پر مبنی رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای کے فتوی کو بین الاقوامی سطح پر رجسٹر کروانے کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی کوششوں کے لئے اہمیت کا قائل ہے۔انھوں نے کہا: چین ایران کے موقف کا خیرمقدم کرتا ہے، ایران ایٹمی تخفیف اسلحہ کے معاہدے این پی ٹی کا رکن ملک ہے اور ہمیں امید ہے کہ تمام متعلقہ فریق دوطرفہ اعتماد کو تقویت پہنچانے اور جلد از جلد ایک طویل المدت راہ حل کے حصول کے لئے مذاکرات اور تعاون کو فروغ دیں۔واضح رہے کہ انقلاب اسلامی کے رہبر معظم حضرت آیت اللہ العظمی امام سید علی خامنہ ای نے 21 فروری 2012 کو فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران جوہری ہتھیار رکھنے کو منطقی، مذہبی اور نظری لحاظ سے گناہ عظیم سمجھتا ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے منگل (15 جنوری 2013) کے روز کہا تھا کہ رہبر انقلاب اسلامی کا فتوی ہمارے لئے لازم الاتباع اور نافذالعمل ہے اور ہماری جوہری سرگرمیوں کا دائرہ کار وضع کرنے کے لئے کوئی چیز بھی رہبر معظم کے فتوی سے زیادہ اہم نہيں ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے اپنے موقف کا اعلان ایسے حال میں کیا کہ ایران اور آئی اے ای اے کے مابین مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوچکا تھا۔ امریکہ، صہیونی ریاست اور ان کے حلیف ممالک ایران پر جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لئے کوششوں کا الزام لگارہے ہیں جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران آئی اے ای اے کے ساتھ مکمل تعاون کررہا ہے اور اپنے جوہری پروگرام پر اس عالمی ایجنسی کی نگرانی کے لئے تمام تر سہولیات فراہم کررہا ہے اور ہر قسم کے ابہام دور کرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔ انھوں نے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران این پی ٹی پر دستخط کرنے والے اور آئي اے ای اے کے رکن ملک کی حیثیت سے، اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس کو پرامن جوہری پروگرام کو ترقی دینے اور اس ٹیکنالوجی کو حاصل کرنے کا پورا پورا حق رکھتا ہے۔چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن کی حیثیت سے، کہتا ہے کہ یہ ملک تصدیق کرتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جوہری تنصیبات کے مسلسل معائنات کے دوران اس کو کسی قسم کا انحراف نظر نہيں آیا ہے۔ چینی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ مسئلہ ایران کے لئے ایٹم بنانے کا مسئلہ ناممکن بنا دیتا ہے۔چین اور روس ـ جو سلامتی کونسل میں ویٹو کی قوت سے بہرہ مند ہیں اور یہ دونوں قوتیں اسلامی جمہوریہ ایران کے پرامن جوہری پروگرام کی مسلسل حمایت کرتے آئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110