اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے نامورعالم دین حجت الاسلام و المسلمین مہدی طائب نے شیعیان پاکستان کے حالیہ قتل عام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا: آج اسلام دشمن عناصر کو اسلامی بیداری نامی اہم مشکل کا سامنا ہے، دشمن اس لہر کو روکنے اور میڈیا کی نگاہوں سے اوجھل رکھنے کے لئے پوری طرح مصروف ہے۔ انھوں نے مزید کہا: دشمن کی پوری کوشش ہے کہ اپنی بقا کے تحفظ کی خاطر اسلامی بیداری کی بڑھتی لہروں کو روک سکے اور اسی بنیاد پر شام، عراق، پاکستان اور افغانستان میں القاعدہ جیسے گروپ لائے گئے تاکہ بحرانی صورت حال پیدا کر کے اسلامی بیداری کی لہروں کو دبا سکیں۔ انھوں نے القاعدہ کی حقیقت بیان کرتے ہوئے کہا: یہ گروپ امریکن انٹیلیجس سی ائی اے، صہیونی انٹیلیجنس موساد اور سعودی شیوخ کی مدد سے وجود میں لایا گیا۔ انھوں نے شام کے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا: شام میں دشمن کا مقصد یہ ہے کہ اسرائیل کے مقابل محاذ مزاحمت کو کمزور کرکے آخر کار مکمل طور پر ناکارہ بنا سکے کیوں کہ شام غاصب صہیونیت کا سب سے بڑا مخالف ہے۔ حجت الاسلام و المسلمین مہدی طائب نے عراق میں رونما ہونے والے مذہبی فتنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: فتنہ گر عراق کو ٹکڑوں میں بانٹنے کی کوشش میں ہیں تاکہ اس طرح اپنے مقاصد کو جامہ عمل پہنا سکیں۔ انھوں نے پاکستان، شام، عراق اور لبنان میں دشمن کا مقصد ایک ہی قرار دیا اور کہا: دشمن اس طرح اسلامی بیداری کی لہروں کو روکنا چاہتا ہے۔
بشکریہ از تنا......./169 ـ 110