14 جنوری 2013 - 20:30

بلادالحرمین کے وسط میں واقع نجد کے شہر القصیم کے ایک سو ایک علماء نے سیاسی اسیروں کی حمایت کرتے ہوئے آل سعود کو سیاسی کارکنوں کی غیرقانونی گرفتاریوں کے منفی نتائج سے خبردار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسیر مردوں اور عورتوں کے ساتھ منصفانہ رویہ روا رکھے اور بےگناہ قیدیوں کو فوری طور پر رہا کردے۔ / خواتین کی گرفتاری اور عوامی غیظ و غضب۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے جزیرہ نمائے عرب کے مرکز میں واقع نجد کے علاقے کے ایک شہر "القصیم" کے 101 علماء نے نہایت سخت لب و لہجے میں ایک بیان شائع کیا ہے اور آل سعود سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ظلم و ستم کے تمام تر مصادیق کو ترک کردے اور تکبر اور جبر و تشدد سے باز آئے۔ علماء نے آل سعود کو خبردار کیا ہے کہ عوام کے مطالبات کا جائزہ لینے میں تاخیری حربوں سے کام لینے کی وجہ سے عوامی مظاہروں، دھرنوں اور احتجاجی اقدامات میں شدت آئے گی۔القصیم کے علمائے دین نے اپنے مشترکہ بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسیروں پر عادلانہ طور پر مقدمہ چلائے، بےگناہ اسیروں کو ملنے والے مالی اور اخلاقی نقصانات کا ازالہ کرے اور مجرمین کو قرار واقعی سز ا دے۔علمائے قصیم نے سیاسی اسیروں کے مسئلے کو سعودی معاشرے کی بنیادی تشویش قرار دیا اور کہا کہ بعض قیدی گذشتہ کئی برسوں حبس بےجا میں محبوس ہیں لیکن ابھی تک انہیں عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا گیا ہے اور متعدد اسیروں کی رہائی کے احکامات جاری ہوئے ہیں لیکن انہیں ابھی تک رہا نہیں کیا گیا ہے اور ان میں سے کئی ایک کو جیل حکام کی طرف سے بےحرمتی اور توہین کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔القصیم کے علماء نے سعودی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان خواتین پر ظلم و تشدد کرنے اور ان کی طرف دست درازی کرنے سے باز رہیں جو اپنے عزیزوں کی رہائی کے لئے سڑکوں پر آکر احتجاج کرتی ہیں۔ جزیرہ نمائے عرب کے علماء نے کہا: جو قیدی کال کوٹھڑیوں سے رہا کئے جاتے ہیں ان کی تعداد توقع سے کہیں کم ہے اور یہی عمومی ناراضگی ـ بالخصوص اسیروں کے خاندانوں کی ناراضگی ـ کے اسباب فراہم کررہا ہے اور عوام کے احتجاجی مظاہروں میں شدت اسی بات کی علامت ہے۔ مشترکہ بیان پر دستخط کرنے والے علماء نے آل سعود کو متنبہ کیا ہے کہ اقتدار کے شیدائی نہ بنیں اور اگر آل سعود نے اسیروں کی رہائی کے سلسلے میں عوامی مطالبات کو توجہ نہ دی تو عوامی احتجاج و اعتراضات کا دامن وسیع سے وسیع تر ہوگا اور عوام مزید اپنے اسیروں کی رہائی پر اکتفا نہیں کریں گے بلکہ اپنے مطالبات کو وسعت دیں گے۔ القصیم کے 101 علماء نے خبردار کیا کہ اگر آل سعود کے حکمران عوامی مطالبات کو نظرانداز کریں اور اعتراض و احتجاج کا سلسلہ وسیع اور شدید ہوجائے تو حتی قیدیوں کی رہائی بھی حکمران خاندان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکے گا۔ بیان پر دستخط کرنے والے علماء کے نام درج ذیل ہیں:1۔ شیخ عبدالعزیز بن صالح العقل2۔ شیخ محمد بن عبداللہ الخضیری3۔ شیخ محمد بن عبدالعزیز اللاحم4۔ شیخ  حسن بن صالح الحمید5۔ شیخ سلیمان بن علی السعود6۔ فضیلة الشیخعبدالرحمن بن سلیمان الشمسان7۔ شیخ صالح بن عبداللہ الہذلول8۔ شیخ عبداللہ بن محمد الناصر9۔ شیخ سلیمان بن محمد الشتوی10۔ شیخ عبداللہ بن صالح المشیقح11۔ شیخ سلیمان بن صالح الجربوع12۔ شیخ عبداللہ بن فہد السلوم13۔ شیخ عثمان بن عبدالرحمن العثیم14۔ شیخ إبراہیم بن عبدالعزیز الرمیحی15۔ شیخ سلیمان بن محمد العثیم16۔ شیخ عبداللہ بن إبراہیم المطوع17۔ شیخ عبداللہ بن صالح القرعاوی18۔ شیخ أحمد بن عبدالرحمن الزومان19۔ شیخ محمد بن عبدالعزیز الغفیلی20۔ شیخ خالد بن إبراہیم الصقعبی21۔ شیخ سلیمان بن عبداللہ السوید22۔ شیخ أحمد بن عبدالعزیز الشاوی23۔ شیخ راشد بن عبدالعزیز الحمید24۔ شیخ علی بن محمد الریشان25۔ شیخ عبدالرحمن بن علی المشیقح26۔ شیخ عبداللہ بن محمد البریدی27۔ شیخ خالد بن محمد العبیدان28۔ شیخ مقبل بن عبداللہ المقبل29۔ شیخ علی بن إبراہیم الرسینی30۔ شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ الوہیبی31۔ شیخ عبدالرحمن بن عبداللہ العرینی32۔ شیخ محمد بن فہد التویجری33۔ شیخ منصور بن محمد الصقعوب34۔ شیخ عبدالعزیز بن محمد الثنیان35۔ شیخ عبدالعزیز بن محمد التویجری36۔ شیخ صالح بن سلیمان التویجری37۔ شیخ سلیمان بن عبداللہ الشمسان38۔ شیخ عبدالرحمن بن عبداللہ الحسیانی39۔ شیخ معاذ بن عبداللہ الشمسان40۔ شیخ عبداللہ بن عبدالكریم البحیری41۔ شیخ عبدالرحمن بن عبداللہ الشایع42۔ شیخ ولید بن عبدالرحمن القفاری43۔ شیخ علی بن عبدالرحمن القفاری44۔ شیخ عبدالعزیز بن حمود الحمود45۔ شیخ عبداللہ بن غیلان الغیلان46۔ شیخ أحمد بن صالح الصمعانی47۔ شیخ فہد بن ناصر الحربی48۔ شیخ خالد بن محمد البریدی49۔ شیخ عاصم بن سلیمان العودة50۔ شیخ محمد بن إبراہیم المہوس51۔ شیخ أحمد بن عبداللہ المہوس52۔ شیخ محمد بن صالح أبا الخیل53۔ شیخ خالد بن إبراہیم الجعیثن54۔ شیخ عبداللہ بن مزید المزید55۔ شیخ عبداللہ بن سلیمان المجیدل56۔ شیخ عبداللہ بن سلیمان المنسلح57۔ شیخ محمد بن صالح الراشد58۔ شیخ عبدالعزیز بن محمد النغیمشی59۔ شیخ حمدان بن عبدالرحمن الشرقی60۔ شیخ عبدالعزیز بن زاید الصلال61۔ شیخ سلیمان بن عبدالعزیز المبارك62۔ شیخ عبداللہ بن علی الربع63۔ شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ الوہیبی64۔ شیخ أحمد بن عبداللہ الراجحی65۔ شیخ محمد بن راشد المانعی66۔ شیخ عبداللہ بن محمد الخزیم67۔ شیخ محمد بن عبداللہ السدیس68۔ شیخ عبداللہ بن سلیمان المحمود69۔ شیخ أیمن بن عبداللہ النجران70۔ شیخ عبدالملك بن علی المحسن71۔ شیخ أحمد بن محمد السویلم72۔ شیخ عبدالكریم بن عبداللہ الصقعوب73۔ شیخ یوسف بن عبدالعزیز العقل74۔ شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ المہنا75۔ شیخ احمد بن عبدالرحمن الربیش76۔ شیخ عبدالعزیز بن سلیمان النقیدان77۔ شیخ عبدالرحمن بن سلیمان الخضیر78۔  شیخ علی بن عبدالعزیز الجریبیع79۔ شیخ محمد بن سعود الہویملی80۔ شیخ ولید بن عبداللہ الرشودی81۔ شیخ فہد بن صالح العرفج82۔ شیخ محمد بن صالح القطیشی83۔ شیخ أحمد بن عبداللہ الماضی84۔ شیخ أحمد بن عبداللہ الربیش85۔ شیخ عبداللہ بن عمر السحیبانی86۔ شیخ عبدالعزیز بن صالح السعوی87۔ شیخ إبراہیم بن سلیمان التویجری88۔ شیخ إبراہیم بن علی السعوی89۔ شیخ عبداللہ بن أحمد الشاوی90۔ شیخ محمد بن خالد المشیقح91۔ شیخ عبدالقوی بن علی المشیقح92۔ شیخ عبداللہ بن حمد السلیم93۔ شیخ یاسر بن محمد الفوزان94۔ شیخ عمر بن محمد الرواف95۔ شیخ خالد بن عبدالكریم الجمحان96۔ شیخ إبراہیم بن عبدالرحمن الفایز97۔ شیخ موسى بن سلیمان الحویس98۔ شیخ إبراہیم بن عبدالرحمن القرعاوی99۔ شیخ أحمد بن عبدالرحمن القرعاوی100۔ شیخ فہد بن یوسف الشبیلی101۔ شیخ عبدالعزیز بن عثمان التویجری

ادھر مرکزی شہر البریدہ کی خواتین نے، آل سعود کے گماشتوں کے ہاتھوں خواتین اور بچوں کی گرفتاری اور حبس بےجا کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا ہے اور پلے کارڈ اٹھا کر آل سعود کے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔ اس دھرنے اور مظاہرے میں شریک خواتین نے کہا ہے کہ خواتین کی گرفتاری پر خاموشی اخلاقی اور اسلامی نہيں ہے اور اس سعودی اقدام پر ہونے والا عوامی احتجاج آل سعود کے لئے غیر متوقعہ نتائج پر منتج ہوسکتا ہے۔ آل سعود کی سیکورٹی فورسز نے اپنے اسیر عزیزوں کی رہائی کے لئے احتجاج کرنے والی متعدد خواتین کو گرفتار کیا اور حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ان خواتین پر امن عامہ کو درہم برہم کرنے کا الزام ہے اور ان پر اسی الزام کےتحت مقدمہ چلایا جائے گا۔ ادھر آل سعود کے ہاتھوں خواتین کی گرفتاری عوامی ناراضگی اور غیظ و غضب کا باعث بن گئی ہے اور سعودی شہر "الخرج" کے عوام نے خواتین کی گرفتاری پر احتجاج کرتے ہوئے گاڑیوں پر سوار ہوکر انوکھے انداز سے احتجاج کیا ہے۔گاڑیوں پر سوار شہریوں نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر آل سعود کے ہاتھوں نہتی خواتین کی گرفتاری کی مذمت پر مبنی جملے درج تھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110