ابنا: پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار چودہ کے اواخر میں جب امریکہ کی زیر قیادت غیر ملکی فوجی افغانستان سے چلے جائيں گے تو اس ملک میں سیکورٹی کی صورتحال بہتر ہوجائے گي۔ واضح رہے کہ اس سے قبل جمعے کے دن امریکی صدر باراک اوباما نے وائٹ ہاؤس میں افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا تھاکہ نیٹو کے فوجی سنہ دو ہزار تیرہ میں موسم بہار میں سیکورٹی کی ذمےداری افغان فوجیوں کے سپرد کردیں گے۔ اور اسے ایک ایسا واقعہ قرار دیا جاسکتا ہے جو افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی پر منتج ہوسکتا ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے اس بات پر بھی تاکید کی کہ وہ سنہ دو ہزار چودہ کے بعد افغانستان میں رہنے والے امریکی فوجیوں کی تعداد کے بارے میں کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ عالمی امور میں امریکہ کے سابق صدور کے مشیر جیمز دوبینز نے تہران واشنگٹن کشیدگی کم کرنے کے لۓ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ہےکہ باراک اوباما ایران کے ایٹمی حقوق کو تسلیم کرنے کے لۓ ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے پر آمادہ ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110