11 جنوری 2013 - 20:30

شتاب انفارمیشن سینٹر کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطی میں امریکی اہداف کی حفاظت اور نفاذ کے سلسلے میں سعودیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان اتحاد قائم ہوگیا ہے۔

ابنا: شتاب اطلاعاتی مرکز نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ مشرق وسطی میں امریکی اہداف کے تحفظ اور نفاذ کے سلسلے میں آل سعود اور اسرائیلیوں کے درمیان اتحاد ہوگیا ہے اور سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان روابط روز بروز فروغ پارہے ہیں۔واضح رہے کہ اس مجرمانہ سازباز میں خلیج فارس کی عرب ریاستیں بھی شامل ہیں۔اطلاعات کے مطابق سعودی عرب اور خلیج فارس کی دیگر عرب ریاستیں، اسرائیل، امریکہ اور نیٹو کے ساتھ  مل کر ایران کے خلاف ایک اتحاد قائم کررہے ہیں اور یہ اتحاد امریکہ کی نیابت میں علاقے کے امن و استحکام کو ختم کرنے کے لئے بنایا جارہا ہے۔رپورٹ کے مطابق شیعہ و سنی مکاتب کے پیروکاروں کے درمیان  اختلافات ڈالنا، قومی اور قبائلی اختلافاتات کو ہوادینا اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان فتنہ بپا کرنا، اس اتحاد کے مقاصد میں شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق اسرائيل اور آل سعود نے فلسطینی پارٹیوں فتح اور حماس کے درمیان اختلاف ڈالا اور مغربی کنارے کو غزہ پٹی سے جدا کیا۔ رپورٹ کے مطابق آل سعود اور اسرائیل نے 33 روزہ جنگ میں حزب اللہ لبنان کو نابود کرنے کی بھی بہت کوشش کی اورلبنان میں  14 مارچ اتحاد کو حزب اللہ کے خلاف تشکیل دیا جس میں سب ہی اسرائیلی و امریکی و سعودی  ایجنٹ شامل ہیں۔ 14 مارچ اتحاد میں المستقبل وہابی سلفیوں پر مشتمل گروہ ہے جس نے فتح الاسلام نامی گروہ کو حزب اللہ کے خلاف قائم کیا ہے اور اس سلفی وہابی گروہ نے لبنان میں کئی بارشیعہ و سنی اتحاد کو پامال کرنے کی کوشش کی ہے تا ہم اسے اس میں کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔ امریکہ مسلم ممالک میں سلفی وہابیوں کے ذریعے اپنی سازشوں کو عملی جامہ پہنارہا ہے اور سلفی وہابیوں کے سرغنے بلادالحرمین پر مسلط آل سعود خاندان اور اس کے درباری مفتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110