8 جنوری 2013 - 20:30

بحرين کي شاہي حکومت کي جانب سے مظاہرين کے خلاف غير منصفانہ عدالتي فيصلوں اور پر تشدد اقدامات کا سلسلہ بدستور جاري ہے۔

ابنا: بحرين کي ايک اپيل کورٹ نے تيرہ حکومت مخالف رہنماؤں کے خلاف ماتحت عدالت کي جانب سے لگائے جانے والے الزامات کو باقي رکھتے ہوئے سزاؤں پر نظر ثاني کي درخواست مسترد کردي ہے۔ اپيل کورٹ نے سات حکومت مخالف رہنماؤں کي عمر قيد کي سزا، چار کو پندرہ سال قيد اور دو ديگر سياسي رہنماؤں کو پانچ سال قيد کي سزا کو برقرار  رکھا ہے۔
بحرين کي اپوزيشن نے اس فيصلے پر سخت ردعمل ظاہر کيا ہے اور عوام سے اپيل کي ہے کہ وہ اس فيصلے کے خلاف وزارت انصاف کي عمارت کے سامنے دھرنا ديں۔
دوسري جانب سيکڑوں کي تعداد ميں بحرين کے شہريوں نے دارالحکومت منامہ کے مختلف علاقوں ميں مظاہرے کرکے سياسي رہنماؤں کے خلاف عدالتي فيصلوں کي مذمت کي ہے۔ مظاہرين سياسي قيديوں کي رہائي اور ملک کے بادشاہ حمد بن عسي آل خليفہ کو اقتدار سے ہٹانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
 .......

/169