8 جنوری 2013 - 20:30

فرانس میں اسلام دشمنی اور مسلمانوں کے حقوق کو پامال کرنے کا ماحول روزبروز بڑھتاجارہاہے ۔یہ ایسے وقت ہے کہ فرانسیسی ذرائع ابلاغ میں اسلام دشمنانہ پروپیگنڈوں کا روزانہ انعکاس ہورہا ہے ۔ جس کے نتیجہ میں مسلمانوں نیزاسلامی مراکز کے خلاف تشدد آمیز اقدامات میں کافی اضافہ ہوگیا ہے ۔

ابنا: فرانس میں مساجد کی توہین کے بارے میں توہین آمیز اقدامات میں کافی اضافہ  ہواہے اور حالیہ دنوں میں نسل پرستوں نے  مسجد طوبی کی دیواروں پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نعرےلکھے اور چھ جنوری کو مسلمان جب مسجد طوبی میں نماز صبح پڑھنے کے لئے آئے تو دیکھا کا مسجد کی دیواروں پر نسل پرستانہ نعرے لکھے ہوئے ہیں ۔ ماہ رمضان المبارک میں اس مسجد کا افتتاح ہوا ہے اور اس میں ایک ساتھ دوسو نمازی نماز پڑھ سکتے ہیں ۔دسمبر کے آخر میں ژیروند علاقے میں ایک مسجد پر حملہ کیاگیا ، اس مسجد پر سن دوہزار بارہ میں جون سے دسمبر تک چار مرتبہ حملہ کیا گيا ہے  ۔ کونٹرکسویل فرانس کے شمال مشرق میں لورن علاقے کا ایک چھوٹا ساشہر ہے اور یہاں منیرل واٹر کے مشہور چشمے موجود ہیں ۔
فرانس میں اسلام اور مسلمانوں کے اوپر صرف اس طرح کے حملے اور اقدامات نہیں ہوتے بلکہ فرانس کے ذرائع ابلاغ بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف خوب پروپيگنڈے کرتے ہیں ۔دوہزار بارہ میں فرانس کے  طنزیہ جریدے شارلی ہبڈو نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف توہین آمیز کارٹون شائع کئے جس کے بعد فرانسیسی مسلمانوں سمیت دنیا کے مسلمانوں نے اس توہین آمیز اقدام کے خلاف احتجاج کیا اور اس طرح کے توہین آمیز اقدامات  کی بھر پور مذمت کی ۔ فرانس میں بائیں بازو کے انتہا پسندوں کی طرف سے بڑھتے ہوئے اسلام دشمنانہ اقدامات کو دیکھتے  ہوئے اس ملک میں مسلمانوں کی کونسل نے تشویش کا اظہار کیا ہے فرانسیسی لوپوان جریدے کی انٹرنٹ سائٹ کے مطابق فرانس میں مسلمانوں کی کونسل کے سربراہ محمد موسوی اس ملک میں اسلام کے خلاف بڑھتے ہوئے اقدامات کے بارے میں خبر کرتے ہوئے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ انھوں نے اکتوبر کے آخر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پواٹیہ میں بائیں بازو کے انتہاہ پسندوں کے قبضے کو اولین اقدام قرار دیا اورکہاکہ پرفرانس میں کسی مسجد پرقبضے کا یہ پہلا واقعہ ہے ،ہمیں اس طرح کے واقعات  کی تکرار سے ڈراور خوف ہے ۔موسوی نے مسجد پر انتہاپسندوں کے حملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئےاس گروہ کے انحلال کا مطالبہ کیا ۔اس  گروہ  کا کہنا ہے کہ کہیں فرانس اسلامی ملک میں تبدیل نہ ہوجائے ۔ موسوی نے کہا ہےکہ فرانس میں مہاجرت کے مسئلہ اور اسلامی مراکز کی تعمیر کے بارے میں ریفرنڈم کرانے کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔مسجد پر انتہاپسندوں کے قبضے کے بعد فرانس کے سیاستدانوں کے خلاف کڑی تنقید کی گئی ۔ فرانس میں تقریبا ساٹھ لاکھ   مسلمان آباد ہیں ۔فرانس میں اسلام دشمنانہ  اقدامات مختلف پہلوؤں کے تحت انجام پاتے ہیں ۔ حیسے عورتوں کے حجاب پر پابندی کی طرف اشارہ کیا جاسکتاہے ۔؛ا ایسے وقت ہے کہ فرانس میں عورتوں کے حجاب پر پابندی کے بارے میں انگریزی اخبار انڈیپینڈنٹ نے لکھا ہے کہ حکومت فرانس کی طرف سے حجاب پرپابندی کا قانون اسلام سے دشمنی اور علی الاعلان جنگ کا اعلان ہے

.......

/169