8 جنوری 2013 - 20:30

امریکہ ، یورپی یونین میں نیٹو کے رکن ممالک اور اس کے کچھ عرب پٹھو ممالک نے تقریبا دو برسوں سے شام میں دہشتگردی پھیلا رکھی ہے اور ان کا مقصد شام میں صدر بشار اسد کی حکومت کو گرانا ہے۔

ابنا: امریکہ اور اس کے مغربی اور عرب پٹھو شام میں سرگرم عمل  دہشت گردوں کو مالی، لاجسٹیکس، انٹلجنس، اور فوجی مدد دے رہے ہیں اوران کاھدف جیسا کہ کہا گيا بشار اسد کی حکومت کو سرنگوں کرنا ہے۔ امریکہ ،اسکے مغربی اورعرب آلہ کاروں نے شام کے بحران اور اس ملک میں جاری دہشتگردی کو ختم کرنے کے لئے پیش کی گئي تمام تجویزوں کو مسترد کردیا ہے اور اس طرح شام میں عملا جنگ کی آگ‏ میں مزید شدت لانے کےلئے قدم اٹھایا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ نے اپنی ان مداخلت پسندانہ پالیسیوں کوجاری رکھتے ہوئے صدر بشار اسد کی تجویزوں کو بھی مسترد کردیا ہے۔ امریکہ نے صدر بشار اسد کی تجویزوں کو حقیقت سے دور قراردیتے ہوئے کہا ہےکہ بشار اسد کو اقتدار سے ہٹ جانا چاہیے۔ ادھر بوڑھے سامراج کے وزیر اعظم ڈیویڈ کیمرون نے بھی اپنے امریکی آقاؤں کے نقش قدم پرچلتے ہوئے بشار اسد سے اسی طرح کی بات کہی ہے۔  شام کے صدر بشار اسدنے اتوار کو قوم سے خطاب میں قیام امن کے لئے جامع منصوبہ پیش کیا تھا۔ انہوں نے اپنے جامع منصوبے میں کہا ہےکہ شام میں قومی مصالحت عمل میں آئے، نئي قومی اتحاد کی حکومت تشکیل دی جائے جو انتخابات اور نئے آئین اور عام معافی کی نگرانی کرے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں بعض مغربی اور عرب حکومتوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک اور ان کے  پٹھو مجرم قاتلوں کے سہارے جنگ لڑرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شام اس وقت جنگ کی حالت میں ہے اور بیرونی حملے کا مقابلہ کررہا ہے جو ہر طرح کے حملوں سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ دشمن ہمیں مارنے کے لئے خود ہمارے ہی لوگوں کو استعمال کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی صورت میں مغرب کے پٹھووں کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔امر واقعہ یہ ہے کہ صدر بشار اسد کے جامع منصوبے کے تعلق سے مغرب کا منفی رد عمل شام کے بارے میں ان کے مذموم اھداف کا غماز ہے۔ امریکی اور برطانوی حکام چاہتے ہیں کہ شام میں جاری بدامنی کا دائرہ مزید وسیع ہوجائے اسی وجہ سے انہوں نے دوہزار بارہ کے جینوا کے معاہدے پر عمل درامد کے لئے کوئي قدم نہيں اٹھایابلکہ اس کی مخالف سمت میں ہی عمل کیا ہے۔ مغرب شام کے خلاف صرف ایک ہدف رکھتا ہے اور وہ شام میں بشار اسد کی حکومت کا تختہ الٹنا ہے۔ مغرب کے فوجی بازو نیٹو نے شام سے ملے ترکی کے سرحدی علاقے میں نصب کرنے کےلئے پیٹریاٹ میزائيل بھیج کر ان عزائم کو مزید آشکار کردیا ہے اور شام میں فوجی مداخلت کے لئے ایک قدم آگے آگيا ہے۔ امریکہ کے صدارتی انتخابات کے دوسرے دور میں باراک اوباماکی کامیابی کے بعد بعض امریکی حکام نے شام میں سرگرم عمل دہشتگردوں کو مزید ہتھیار بھیجنے اور لڑائي میں تیزی لانے کی بات کی ہے۔ ادھر روس  اور چین نے شام کے خلاف مغربی ملکوں اور ان کے پٹھووں کے اقدامات کی شدید مخالفت کی ہے اور بدستور شام کی حکومت کی حمایت کررہے ہیں اور شام کے بحران کے مفاہمت آمیز راہ حل پر تاکید کرتے ہیں۔

.......

/169