ابنا: بحرین کی بڑی عدالت نے حکومت کے اشاروں پر بحرین میں انقلابی رہنماؤں کی سزاؤں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے فیصلے میں بعض رہنماؤں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔بحرینی عدالت نے حکومت مخالف تیرہ انقلابی رہنماؤں کو دی جانے والی سزائیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عدالت کے حکمکے مطابق 7 رہنماؤں کو عمر قید 4 کو 15 سال کی قید اور 2 کو 5 سال کی قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ بحرین میں فروری سنہ دو ہزار گیارہ میں جمہوریت نواز مظاہرے شروع ہونے کے بعد بے چینی پائی جاتی ہے۔بحرین میں حکومت مخالف تحریک کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب مظاہرین نے دارالحکومت منامہ کے مرکز میں جمع ہو کر اکثریتی شیعہ آبادی کے حقوق اور روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کے خاتمے کے لیے بحرین میں برسراقتدار سنی شاہی خاندان کے خلاف احتجاج کا آغاز کیا تھاـادھر بحرین کی حزبِ مخالف اور انسانی حقوق سے متعلق تنظیموں نے عدالتی فیصلے کی مذمت کی ہے۔انسانی حقوق سے متعلق گروپوں نے ان سزاؤں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کارکنوں کے خلاف ریاست کے خلاف مظاہروں کے دوران تشدد اکسانے کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور ان کی حراست اور ان پر قائم کیے جانے والے مقدمات بین الاقوامی اصولوں کے خلاف ہیں۔ بحرینی عوام ملک میں جمہوری نظام لانے کی جد وجہد کررہے ہیں اور ان کے اس مطالبے کو بحرینی حکومت امریکہ اور سعودی عرب کی مدد سے کچل رہی ہے۔
.......
/169