6 جنوری 2013 - 20:30

بشارالاسد نے شام کے قومی ٹیلی ویژن سے براہ راست نشری تقریر میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے خاندانوں سے اظہار ہمدردی کیا اور کہا: جذبۂ ہمدری کا اظہار ہمارے عزیزوں کے فقدان کا ازالہ نہیں کرسکتا ہمیں امن چاہئے / ہم نے کبھی بھی امن کے قیام کے لئے مثبت تجاويز کی مخالفت نہيں کی لیکن سیاسی راہ حل کی بات کرنے والے دہشت گردی کو نظرانداز کرتے ہیں / بیرونی امداد دہشت گردی کو فروغ دینے کے لئے نہیں بلکہ اس کے خاتمے کے لئے ہونی چاہئے/ جولان ہمارا ہے اور فلسطین ہمارا بنیادی مسئلہ ہے۔

اہل البیت نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق شام کے صدر ڈاکٹر بشار الاسد نے اتوار (6/جنوری 2013) کے روز اپنی نشری تقریر میں دو برسوں سے مغرب اور بعض عرب ممالک نیز ترکی و اسرائیل کی حمایت یافتہ دہشت گردی کا نشانہ بننے والے شامی عوام کے خاندانوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ ہم جس قدر بھی ہمدردی کا اظہار کریں ہمارے عزیز آج ہمارے درمیان نہيں ہیں اور ان کی خالی جگہ پر کرنا ہمارے لئے ان جذبات کے کے اظہار سے، ممکن نہیں ہے، جذبات کے اظہار سے امن کا قیام ممکن نہيں ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے۔ صدر بشار الاسد کے خطاب کے خاص خاص نکات:٭ ہم ایک قومی اقدام سے موجودہ بحران سے خارج ہونگے، شام کے تمام شہری اس حوالے سے جوابدہ ہیں اور وہ سب اس بات کی اہلیت رکھتے ہیں کہ اس بحران کے خاتمے کے لئے اقدام کریں۔ سارے شامی باشندے جانتے ہیں کہ بحران کے حل میں شرکت نہ کرنا ہمارے ملک کی پسماندگی اور پسپائی کا سبب ہے، آج کی جنگ شامی قوم اور اس کے دشمنوں کے درمیان ہے، دہشت گردوں نے بنیادی ڈھانچے کی تنصیبات کو تباہ کیا ہے اور وہ ہماری زندگی کو رنج و الم اور دکھ و مشقت سے دوچار کررہے ہیں۔ ٭ شام میں کسی قسم کا کوئی انقلاب نہيں ہے، انقلاب تو عوامی تحریک کا نام ہوتا ہے جبکہ یہاں جو فتنہ بپا ہوا ہے وہ باہر سے درآمد ہوا ہے؛ جرائم پیشہ لوگوں نے جرائم کا ارتکاب کرکے ان کو انقلاب کا نام دیا۔ دہشت گردوں نے درندگی سے ہماری قوم کو نشانہ بنایا کیونکہ ہماری قوم نے ان کی خواہش پوری کرنے سے انکار کیا۔ ٭ مغرب شام میں دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے جیسا کہ تین عشرے قبل انھوں نے افغانستان میں دہشت گردی کی دیکھ بھال کی؛ آج ہمیں اکثر ان ہی لوگوں کا سامنا ہے جو القاعدہ کے افکار کے حامل ہیں۔ تکفیری صرف قتل و غارت کی بولی بولتے ہیں۔ بعض قوتیں شام کو تقسیم اور کمزور کرنا چاہتے ہیں؛ شام میں تنازعہ جرائم پیشہ درندوں اور قاتلوں اور شامی قوم کے درمیان ہے۔٭ دنیا صرف چند مغربی اور چند عرب ملکوں کا نام نہيں ہے بلکہ دنیا کے بہت سے ممالک دہشت گردوں کے خلاف ہیں اور شامی قوم کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس سلسلے میں ہم ایران، روس اور چین کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ٭ جو کچھ شام میں ہورہا ہے وہ تکفیری نظریات کا نتیجہ ہے جو دوسرے ممالک سے ہمارے ملک میں داخل ہوئے ہیں تاہم شام کے عوام اس سے کہیں زيادہ طاقتور ہیں کہ باہر کے ممالک سے چند لوگ آکر ان کے ملک کو کمزور اور تقسیم کرسکیں۔ شامی عوام کسی صورت میں کسی غیر ملکی سرپرستی کو قبل نہيں کریں گے۔ ٭ شام میں ابتدا میں بھی اختلاف حکومت کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان نہيں تھا بلکہ شام کو ہمہ جہت جنگ کا سامنا ہے اور ہم جنگ لڑنے کے ساتھ ساتھ اصلاحات پر بھی زور دیتے ہیں۔ سیاسی حل کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اپنا دفاع نہ کریں، ہم نے کسی صورت میں بھی سیاسی حل کو مسترد نہيں کیا اور ہر اس شخص کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہیں جو بحران کو حل کرنے کے لئے قومی منصوبہ دے سکے؛ شام کی حکومت مذاکرات کے لئے تیار ہے۔ بحران کا حل ہمہ جہت اور وسیع البنیاد ہونا چاہئے اور معاشی، سیاسی اور سماجی شعبوں پر مشتمل ہونا چاہئے۔٭ حکومت شام نے بحران کے حل کے لئے سیکورٹی آپشن کا انتخاب نہيں کیا ہے اور مذاکرات کے ذریعے سیاسی راہ حل کی مخالفت نہيں کی ہے لیکن جو لوگ سیاسی حل کی بات کرتے ہيں وہ ہمارے ملک میں ہونے والی دہشت گردی کو نظرانداز کرتے ہیں۔ ٭ ہم ہر اس شخص سے مذاکرات کریں جو میری ذات کا مخالف ہے۔ حکومت مذاکرات چاہتی ہے اور یہ مذاکرات ایسے لوگوں کے ساتھ ہونگے جو شام کی وحدت و سالمیت پر یقین رکھتے ہیں او دہشت گردی کی نابودی کے پابند ہیں۔ نیا آئین جو "ڈائیلاگ کانفرنس" کے ذریعے تیار ہوگا، ریفرینڈم کے لئے عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا اور حکومت اسی آئین کی پابند ہوگی۔ ٭ دوسری بات انتظامی حکمت عملی ہے جس کے تحت ان تمام مجرموں کو عام معافی دی جائے گی جو معمولی جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں۔٭ قومی میثاق ـ جو مذاکرات سے حاصل ہوگي، ریفرینڈم کے لئے عوام کے سامنے رکھی جائے گی جس کے تحت شہریوں کے شہری حقوق کے پیش نظر عام معافی کا اعلان کیا جائے گا لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سستی کا شکار نہيں ہونگے اور دہشت گردوں کا مقابلہ فیصلہ کن انداز سے کریں گے۔ ٭ دوسرے ممالک بھی دہشت گردوں کے اخراجات برداشت نہ کریں اور مسلح دہشت گردوں کو پناہ نہ دیں۔ ہم قومی کانفرنس کے انعقاد کے خواہاں ہیں جو ملک میں فوجی کاروائیوں کے بعد ہی منعقد ہوگی؛ شام کے واقعات کے بعد کثیر تعداد میں دہشت گرد "نام نہاد جہاد" کے نام پر شام میں منتقل کئے گئے لیکن جب انہيں شکست ہوئی تو بیرونی قوتوں نے انہيں واپس بلایا اور تکفیری دہشت گردوں کو آگے بڑھایا۔٭ ہم اپنے بےگھر شہریوں کی واپسی کے خواہاں ہيں اور ان کے واپسی کے لئے ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کی ضرورت ہے؛ ہم واحد دشمن کے مقابلے میں مزاحمت کے حامی ہیں۔ ٭ بیرونی قوتیں فلسطینیوں کو بھی شام کے بحران میں دھکیلنے کی کوشش کررہی ہیں لیکن رائے عامہ کو حقائق سے منحرف کرنے کی غرض سے فلسطینیوں کو اس جنگ میں دھکیلنے کی سازش بھی دوسری سازشوں کی طرح ناکام ہوگی۔ ٭ بیرونی امداد دہشت گردی کے خلاف استعمال ہونی چاہئے نہ یہ کہ دہشت گردی کے فروغ کے لئے استعمال کی جائے؛ ہمیں باہر سے نہ کسی امداد کی ضرورت ہے اور نہ ہی سیاسی راہ حل کی؛ کئی ہزار سالہ تہذیب کی امین قوم کو یہ کہنا "کہ اس کو کیا کرنا چاہئے" درست نہیں ہے؛ سیاسی راہ حل کے لئے پیش کی جانی والی ہر تجویز کو شام کی قومی ارادے کے مطابق ہونا چاہئے جو لوگ باہر سے ہمارے ساتھ تعاون کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں انہیں دہشت گردی کے خلاف سرگرمی دکھانی چاہئے؛ ان کی طرف سے ہمیں کسی سیاسی راہ حل کی ضرورت نہيں ہے۔ ٭ جنیوا کانفرنس میں شام کے عبوری دور کا مرحلہ واضح نہیں ہے۔ عبوری مرحلے کے معنی یہ ہیں کہ عدم استحکام سے استحکام کی طرف منتقلی ہو اور ہم اس وقت پوری طرح مستحکم ہیں؛ باہر سے آنے والی ہر تجویز کو ملت شام کے نزدیک قابل قبول ہونا چاہئے؛ شام تجویز و سفارش پر غور کرتا ہے لیکن ڈکٹیشن ہرگز نہيں لیتا۔ ٭ اندھادھند کینہ پروری، ملک کی گستاخانہ تقسیم اور بغض و عداوت پر مبنی فرقہ واریت وہی چیز ہے جو مغرب نے "جھوٹی عربی بہار" کی موجوں پر سوار ہوکر آگے بڑھائی؛ مغرب کی یہ عربی بہار ایک بلبلہ ہے جو ختم ہوکر رہے گا، امن و امان صرف اور صرف اجنبیوں اور دشمنوں کے سامنے استقامت کے ذریعے حاصل ہوگا۔ ٭ مسلح افراد کی بیرونی امداد و حمایت کے بعد حکومت وسیع البنیاد مذاکرات کی دعوت دے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110

کلک کریں:

بشار الاسد کی طرف سے بجران کا تین مرحلوں پر مشتمل راہ حل