5 جنوری 2013 - 20:30

شام میں ترک پائلٹوں کی گرفتاری کا مسئلہ ترکی میں ایک اہم ترین مسئلے میں تبدیل ہو گيا ہے۔

ابنا: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے ترک پارلیمنٹ میں شام میں گرفتار ہونے والے دس ترک پائلٹوں کے ناموں کا ذکر کرتے ہوئے اردوغان حکومت پر تنقید کی ہے کہ وہ ان پائلٹوں کے سلسلے میں بےاعتنائی اور لاپرواہی سے کام لے رہی ہے۔ شام کے بعض ذرائع ابلاغ نے دعوی کیا ہے کہ گرفتار ہونے والے ترک پائلٹ نام نہاد شامی لبریشن آرمی کی مدد سے شام کے بعض علاقوں پر بمباری کرنا چاہتے تھے۔ شام کے حکام نے کہا ہے کہ یہ پائلٹ تخریبی کارروائياں کرنے کی غرض سے شام میں داخل ہوئے تھے جنہیں حلب ہوائی اڈے کے قریب سے گرفتار کر لیا گیا۔ شام کے اخبار الوطن نے بھی رپورٹ دی ہے کہ یہ پائلٹ حلب شہر میں واقع کویرس فوجی ہوائی اڈے میں داخل ہونا چاہتے تھے۔ترکی کی طہ نیوز ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ واضح ہو گيا ہے کہ ترکی کے تمام فوجی، پائلٹ تھے اور وہ ترک فضائیہ کے انٹیلی جنس ادارے سے وابستہ تھے اور انہوں نے غیرفوجی جنگوں کی خصوصی تربیت بھی حاصل کی تھی۔ اس ویب سائٹ کے مطابق ترکی کے ان فوجیوں کو مخالفین کی طرف سے اس فوجی ہوائی اڈے پر قبضے کی خبر کی بعد اس علاقے میں بھیجا گيا تھا اور وہ شامی حکومت کے بعض مخالفین کو مگ جنگي طیارے اڑانے کی تربیت دینا چاہتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ مذکورہ پائلٹوں نے تفتیش کے دوران ان دعووں کی تردید کی ہے کہ وہ خود مگ طیاروں کو اڑانا چاہتے تھے۔ لیکن ترکی کی حکومت ایسے کسی بھی مسئلے سے انکار کر رہی ہے۔ترکی کی ویب سائٹ ہابر نے ترک وزیر خارجہ احمد داؤد اوغلو کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس وقت ترکی کا کوئی فوجی یا پائلٹ شام میں نہیں ہے۔ترکی کی فوج نے بھی ایک بیان میں شام کے شہر حلب میں واقع فوجی اڈے میں داخل ہونے کی کوشش کرنے کے دوران ترک پائلٹوں کی گرفتاری کی تردید کی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ ترک پارلیمنٹ میں اس مسئلے پر گرما گرم بحث ہو گی۔ شام کے ایک ٹی وی چینل نے حتی یہ خبر بھی نشر کی ہے کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے وزیراعظم رجب طیب اردوغان اور وزیر خارجہ احمد داؤد اوغلو کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق اس مطالبے کی وجہ شام کے بحران میں ترکی کے فوجی افسروں کے کردار اور شام کے مسلح گروہوں کے ساتھ ان کے تعاون کو قرار دیا گيا ہے۔اس سے قبل پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے ہمسایہ ممالک خاص طور پر شام میں انقرہ حکومت کی مداخلت پسندانہ پالیسیوں کی مخالفت کی تھی۔ یہ پارٹی استدلال کرتی ہے کہ ترکی کی مداخلت پسندانہ پالیسیوں سے نہ صرف ہمسایوں کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو گا بلکہ ترکی، خارجہ پالیسی کے میدان میں ایک برے دور میں داخل ہو جائے گا کہ جس سے ترکی کے قومی مفادات کو سنگین خطرات لاحق ہو جائيں گے۔

 .....

/169