سعودی عرب اور متحدہ عرب امارت جنوبی پنجاب میں دہشت گردی کیلئے دیوبندی وہابی کے "علماء اور مدارس" کو سالانہ ایک کروڑ ڈالر کی مالی معاونت فراہم کرتے ہیں۔ بہاولپور میں دو مدرسے دہشت گردی کی تربیت دے رہے ہیں اور ڈیرہ غازی خان میں ایک مدرسہ دہشت گردی کی تربیت دے رہا ہے۔ خفيہ معلومات منظر عام پر لانے والی انٹرنيٹ ويب سائٹ وکی ليکس کی تازہ ترین رپورٹ سے یہ انکشاف ہوا ہے۔ وکی لیکس کی جاری کردہ نئی امریکی سفارتی کیبلزکے مطابق سالانہ ایک سو ملین ڈالر کی مدد سے خلیجی ریاستوں کی طرف سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں جہادیوں کو بھرتی کرنے کی مہم کی معاونت کی گئی۔ پنجاب میں جہادی نیٹ ورک کی بھرپور پشت پناہی متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کرتا رہا ہے۔ اس بارے میں وکی لیکس انکشافات پر مبنی ایک تفصیلی رپورٹ پاکستانی روزنامے ڈان میں شایع ہوئی ہے۔سال 2008 ء نومبر کے ماہ میں اُس وقت لاہور میں امریکی قونصل خانے میں متعینہ امریکی پرنسپل آفیسر برائن ہنٹ کی طرف سے جاری کردہ مراسلہ، پنجاب کے مختلف علاقوں میں اُن کے دوروں کے دوران اس بارے میں مقامی حکومت اورغیر سرکاری ذرائع کے ساتھ ہونے والی گفت و شنید پر مبنی ہے۔ مختلف ذرائع پر مبنی اس مراسلے سے پتہ چلا ہے کہ آٹھ سے بارہ سال کی درمیانی عمر کے بچوں کو جہادی تربیت دینے کے لیے پنجاب میں قائم کیے گئے نیٹ ورکس، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے آنے والی ایڈ کی مدد سے کام کر رہا تھا۔ نیز یہ کہ تبلیغ کا کام کرنے والی اور اسلامی خیراتی تنظیموں کو ان عرب ممالک کی حکومتوں کی طرف سے براہ راست مالی امداد اور حمایت بھی حاصل تھی۔ویڈیو دیکھئے:
4 جنوری 2013 - 20:30
News ID: 378589
ویسے تو امارات اور سعودی عرب پاکستان کے نام نہاد اسٹریٹجک دوست اور برادر (!) ممالک سمجھے جاتے ہیں لیکن یہی دو دوست اور برادر ملک سالانہ ایک کروڑ ڈآلر پاکستان میں دہشت گردوں کے گلے میں انڈیل رہے ہیں اور پاکستان میں خون خرابے کے اسباب فراہم کررہے ہیں سنیئے اور خود فیصلہ کیجئے۔