اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایک عینی شاہد کے مطابق کوئٹہ سے تفتان جانے والی بسوں سے ایک 2D گاڑی ٹکرائی جس کے بعد زوردار دھماکہ ہوا، دھماکہ میں 80 کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ چالیس کلومیٹر دور تک اس کی آواز سنی گئی۔ بلوچستان میں مستونگ کے علاقے درینگڑھ میں کوئٹہ سے تفتان کے راستے ایران جانے والی زائرین کی 3 بسوں کے قریب خودکش بم دھماکہ میں 19 افراد شہید جب کہ 25 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق ضلع مستونگ کے علاقے درینگڑھ کے مقام پر صہیونیت نواز تکفیری دہشتگردوں کی جانب سے زائرین کے ایک قافلے کو دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنایا گیا ہے؛ قافلے میں 3 بسیں شامل تھی جن کے قریب بم دھماکہ ہوا ہے۔ دھماکے میں 80 کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔ دھماکے کے نتیجے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 19 افراد شہید متعدد مومنین زخمی ہوئے ہیں جنہیں سول اور بم ایم سی اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔ واضع رہے کہ زائرین کی بسیں کویٹہ سے تفتان کی طرف جارہی تھی۔دھماکے کے بعد لیویز اور انتظامیہ موقع پر پہنچ گئی، ڈپٹی کمشنر مستونگ طفیل بلوچ نے 19 شہادتوں کی تصدیق کی ہے۔ جائے حادثہ کو لیویز اہلکاروں نے چاروں طرف سے گھیرا ہوا ہے میڈیا نمائندوں کو بھی جائے حادثہ کی رپورٹنگ کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی۔

بس مالک کے مطابق زائرین 3 بسوں پر مشتمل قافلے میں ایران جارہے تھے۔ ایک عینی شاہد کے مطابق حملہ آور نے گاڑی بس سے ٹکرائی، جس سے دو بسیں متاثر ہوئیں اور ایک بس مکمل طور پر جل گئی جس میں 43 مسافر سوار تھے تا ہم ایک دوسرے عینی شاہد نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ کار بم حملہ کیا گیا ہے کیونکہ ایک چھوٹی گاڑی کا انجن بھی جائے حادثہ پر پڑا ہوا ہے۔زخمیوں کو سول اسپتال مستونگ منتقل کیا گیا ہے جن کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق بم سڑک کے کنارے کھڑی کار میں بم نصب تھا اور جیسے ہی بسیں گاڑی کے پاس پہنچیں اسی وقت ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکہ کردیا گیا۔ واضح رہے کہ مذکورہ زائرین کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے تھا جو کاروان علی ابن موسیٰ رضا (ع) کے بینر تلے ایران و عراق میں روضہ جات کی زیارت پر جارہے تھے۔شیعت نیوز ویب سائٹ نے رپورٹ دی ہے کہ تکفیری دہشت گردوں کے اس حملے میں 35 افراد شہید ہوئے ہیں تاہم شہداء کی صحیح تعداد کا ابھی تک اعلان نہیں ہوسکا ہے تا ہم تازہ ترین اطلاعات کے مطابق رات 12 بجے تک شہداء کی تعداد 20 تک پہنچ چکی تھی اور درخواست کی گئی تھی کہ 35 افراد شہید نہیں ہوئے ہیں البتہ 20 افراد زخمی ہیں۔ ان اطلاعات کے مطابق اب اس بات کی بھی تصدیق ہوچکی ہے کہ حملہ خودکش نہيں تھا بلکہ دھماکہ ریموٹ کنٹرول ڈیوائس سے کیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110





