20 دسمبر 2012 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے نشریاتی ادارے آئی آر آئی کی ورلڈ سروسز کے سربراہ ڈاکٹر سرفراز نے ایرانی میڈیا کے ساتھ مغرب کے رویے کو جنگل کا قانون دیتے ہوئے مغربی ملکوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ڈاکٹر محمد سرافراز نے پریس ٹی وی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے آئی آرآئی بی کے خلاف امریکی کانگریس کی پابندیوں اور ایرانی سٹیلائٹ چینلوں کو بند کرنے کے یورپی کمپنیوں کے اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران  اپنے ذرائع ابلاغ کے خلاف یورپ اور امریکہ کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لئے قانونی چارہ جوئی کررہا ہے۔ انھوں نے کہاکہ ایرانی ذرائع کے خلاف امریکہ اور یورپ کے اقدامات ان کے حقیقی چہرے کو آشکار کردیتے ہیں اور مغربی ممالک بچگانہ حرکتوں سے ایرانی میڈیا کی آواز کو خاموش کرنا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر سرافراز نے کہا کہ مغربی ملکوں نے ایران کے میڈیا کے خلاف جو روشیں اپنائی ہیں وہ قانونی لحاظ سے جنگل کا قانون کہلائیں گی اور آزادی اظہار کے لحاظ سے قرون وسطی کی روشیں ہیں جن میں حقائق سے آگہی کا حصول، جرم سمجھا جاتا تھا۔ ڈاکٹر سرافراز نے کہا کہ آئی آر آئی بی پر پابندیاں امریکی کانگریس پر صہیونی لابی کے دباؤ بالخصوص غزہ کی آٹھ روزہ جنگ میں مقبوضہ فلسطین پر ایرانی میزائلوں کے لگنے کے بعد لگائی گئی ہیں۔ پریس ٹی وی رپورٹ کے مطابق ہیسپاسیٹ نے آج سے پریس ٹی وی اور ہسپانوی زبان میں ایرانی ٹی وی پیسپان ٹی وی کی نشریات بند کردی ہیں اور کہا ہے کہ "یہ پابندی آئی آرآئی بی کے سربراہ پر پابندیوں کی بناپر لگائی گئی ہے"۔ اسپین کی حکومت اور ہیسپاسیٹ نے ایرانی چینلوں پر پابندی لگانے کے لئے کوئی قانونی جواز پیش نہیں کیا ہے اور یکطرفہ طور پر ایرانی چینلوں پر پابندی لگائی ہے اور ہسپان ٹی وی کو یورپ اور اسپین کے قوانین کے مطابق کسی طرح کا نوٹس نہیں ملا تھا۔ اس سے پہلے یوٹیل سیٹ نے ایران کے انیس چینلوں کی نشریات بند کردی تھیں۔ یوٹیل سیٹ کا سربراہ ایک فرانسیسی اسرائیلی ہے جسے ایرانی میڈیا کے خلاف اقدامات کا بنیادی محرک بتایاجارہا ہے۔ واضح رہے کہ ایشیا سیٹ کے حصص بھی ایک امریکی کمپنی نے خریدلئے ہیں جس کے بعد ایشیا سیٹ نے بھی ایشیا میں ایرانی چینلوں کی نشریات پر پابندی لگادی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110