ابنا: اطلاعات کے مطابق گلگت جیل سے شہید عالم دین علامہ سید ضیاء الدین رضوی کے قتل کیس میں جرم ثابت ہونے پر سزائے موت پانے والے دو خطرناک دہشت گرد فرار ہوگئے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب چیتا جیل جوٹیال سے آغا ضیاءالدین رضوی قتل کیس کا مرکزی ملزم شاکر اللہ اور تحصیلدار اکبر خان قتل کیس کا مجرم عارف الدین فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مجرموں نے جیل ملازمین کی چائے میں نشہ آور مواد ملایا تھا اور رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر فرار ہوئے ہیں۔ اس واقعے کے بعد پولیس کی جانب سے گلگت شہر کے مختلف علاقوں میں ناکے لگا کر ملزموں کی دوبارہ گرفتاری کے لئے تلاش شروع کر دی ہے۔ بشکریہ از اسلام ٹائمز۔۔۔۔۔۔۔سوال یہ ہے کہ پولیس والے کال کوٹھڑی کے مجرمین کے ساتھ چائے کس کھاتے میں پی رہے تھے اور چائے کا یہ دور رات کے وقت کیوں چل رہا تھا اور یہ کہ کیا جیل میں متعینہ تمام کے تمام نفری دہشت گردوں کے جشن میں شریک تھی اور ان سب کو چائے پلائی گئی تھی؟ اس سے بھی زيادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا پولیس کی سنائی ہوئی کہانی درست ہے؟ کیا فرار ہونے میں انہيں پولیس والوں کی پشت پناہی حاصل نہ تھی؟ واضح رہے کہ اس سے قبل اگست کے پہلے ہفتے میں 10 شیعہ باشندوں کے قتل میں ملوث پانچ دہشت گرد بانڈری وال کراس کرکے چلاس جیل سے فرار ہوئے تھے اور انھوں نے اپنا سیل توڑ دیا تھا۔...../110
15 دسمبر 2012 - 20:30
News ID: 372858
اس واقعے کے بعد پولیس کی جانب سے گلگت شہر کے مختلف علاقوں میں ناکے لگا کر ملزموں کی دوبارہ گرفتاری کے لئے تلاش شروع کر دی ہے۔