اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز یونیورسٹی انتظامیہ نے 17 شیعہ طالبعلموں کو یونیورسٹی میں مجلس عزاداری بپا کرنے کی پاداش میں کڑی سزائیں سنائے جانے کے بعد طلبہ کے دو گروپوں کے درمیان تصادم کی صورت حال پیدا ہوئی جس کا پورا کریڈٹ یونیورسٹی انتظامیہ اور اس کے شرانگیز اقدام کو جاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بعض شدت پسند ٹولوں سے وابستہ طالبعلموں نے انتظامیہ کے اقدام کو اپنے مفاد میں سمجھ کر اشتعال انگیز اقدامات کئے جس کی وجہ سے کشیدگی پھیل گئی اور جب صورت حال انتظامیہ کے ہاتھ سے باہر ہوئی تو پولیس کو بلانا پڑا جس کے بعد جھڑپوں میں کمی آنے کے بجائے شدت آئی اور ایک پولیس اہلکار سمیت دو افراد جاں بحق ہوگئے گوکہ یہ معلوم نہيں ہوسکا کہ جاں بحق ہونے والے طالبعلم کا تعلق کس گروپ سے ہے۔ ذرائع کے مطابق طالبعلموں کو روکنے کے لئے پولیس کی جانب سے کی جانے والی کارروائی کے دوران فائرنگ اور پتھراوٴ کے نتیجے میں پولیس اہلکار اور ایک شہری کی ہلاکت اور 6 افراد کے زخمی ہونے کے بعد شہر کی صورتحال آج بھی کشیدہ ہے۔ضلعی انتظامیہ نے گزشتہ روز غیر معینہ مدت تک دفعہ 144 نافذ کردی ہے۔ آج موٹرسائیکل چلانے پر پابندی ہوگی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔دوسری جانب قراقرم یونیورسٹی پیر کے روز تک بند رہے گی۔واضح رہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کے غیرپیشہ ورانہ اقدام کے بعد پیشن گوئی کی جاسکتی تھی کہ یہ اقدام نہ صرف صورت حال کی بہتری میں ممد و معاون ثابت نہ ہوسکے گا بلکہ اس سے فسادات پھوٹ پڑنے یا پھر انتظامیہ کے خلاف عوام اور طلبہ کے اشتعال کا سبب بنے گا۔ ......./110
قراقرم یونیورسٹی گلگلت میں شیعہ طلباء کے خلاف ظالمانہ کاروائی