5 دسمبر 2012 - 20:30

ہیثم مناع نے خبردار کیا کہ سعودی عرب اور قطر شام کو صومالیہ یا افغانستان کی طرح تباہ و برباد کرنے کے لئے اس ملک کو فرقوں، مذاہب اور اقوام کی بنیاد پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں چنانچہ ان کو اس ملک میں مزید مداخلت اور دہشت گردوں کو ہتھیاروں کی فراہمی سے باز رہنا چاہئے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بیرون ملک مقیم ڈموکریٹک چینج گروپس کے کوارڈینشن کونسل کے سربراہ ہیثم مناع نے العالم کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: ایک چھوٹا سا مگر ہدایت شدہ دھڑا موجود ہے جو مذاکرات اور گفتگو کی مخالفت کررہا ہے؛ وہ سیاسی راہ حل کو ماردینے کے قائل ہیں اور کہتے ہيں کہ انہيں ہتھیاروں کے زور سے دمشق میں داخل ہونا چاہئے کیونکہ ان کے بقول "شام کا انقلاب (؟!)" مسلحانہ ہے اور ہتھیار کے زور سے ہی کامیاب ہوسکے گا۔ انھوں نے کہا: جن لوگوں نے چھ مہینوں تک پرامن جدوجہد کے بعد مسلح ہونے کا اعلان کیا ان کا دعوی ہے کہ پرامن جدوجہد کامیاب نہیں ہوسکی حالانکہ اب 14 مہینوں کی مسلحانہ جنگ اور قتل و غارت اور ویرانی و انہدام اور شہروں کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہونے کے بعد بھی وہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑے شہر کی تباہیانھوں نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی بار حلب جتنا شہر تباہ و برباد ہوگیا اور اب بعض مخالفین یہاں تک کہتے ہوئے بھی جھجھک محسوس نہيں کرتے کہ "اگر ممکن ہو دمشق کو بھی تباہ کرنا چاہئے تا کہ شام کی حکومت پر قبضہ کیا جاسکے"، حالانکہ یہ طرز فکر تباہ کن اور غیر ذمہ دارانہ ہے اور اس قسم کی باتوں کا منفی نتیجہ عوام کا دامن پکڑے گا اور ملک کی عظمت و وحدت کو نیست و نابود کردے گا۔  انھوں نے کہا: تشدد راہ حل نہیں ہے؛ نئے بحرانوں میں کبھی بھی بے مقصد اور اندھادھند و بے منطق تشدد بروئے کار نہيں لایا گیا ہے جو جمہوریت کے قیام کے لئے نمونہ عمل پیش کرسکا ہو۔انھوں نے کہا: ابتدائی چھ مہینوں کی پرامن جدوجہد کے نتیجے میں کوچہ و بازار کے لوگ ملک کے اعلی ترین حکام سے ملے اور سیاسی تبدیلیاں رونما ہوئیں، کئی سالوں سے جاری ہنگامی حالت اٹھائی گئی، لاکھوں افراد نے روزگار کے لئے رجسٹریشن کرائی، عوام کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ملی حالانکہ یہ لوگ یا تو اس وقت گوشہ نشین تھے یا پھر سیاسی جدوجہد ترک کرچکے تھے۔ انھوں نے کہا: مخالف گروہ مسلح ہوئے تو حکومت نے بھی اقدام کیا اور عوامی گروہ یکے بعد دیگرے مسلح گروپوں کے تشدد کی وجہ سے جدوجہد سے الگ ہوئے اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ حکومت کے خلاف لڑنے والے افراد کا تعلق ایک ہی فرقے سے ہے۔فرقہ واریت نے سیاسی راہ حل کو بے اثر کردیاہیثم مناع نے کہا: اس وقت فرقہ واریت کو شام کے لئے نسخے کے طور پر بروئے کار لایا جارہا ہے جس کی وجہ سے تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور تشدد میں اضافہ کرنے کے لئے بھرتیاں کروائی جارہی ہیں حالانکہ اگر انقلاب تشدد کی طرف مائل ہوجائے تو وہ قطعی طور پر ناکام ہوجاتا ہے۔ اور فرقہ واریت کی وجہ سے جمہوریت کی جنگ پسماندہ قوموں کی لڑائی میں تبدیل ہوچکی ہے جس کا عوام کے لئے کوئی فائدہ نہيں ہے؛ حالانکہ شام کے معاشرے کو ایک فرقے والا معاشرہ نہیں بنایا جاسکتا اور ضرورت اس امر کی ہے کہ شام کے ہر شہری کے لئے برابر کے حقوق مدنظر رکھے جائیں کیونکہ فرقہ واریت کی وجہ سے معاشرے میں حقیقی خلیج پیدا ہوسکتی ہے جو ہر قسم کے جمہوری، طبقاتی اور قومی اصولوں سے بالکل دور ہے اور اس سے ہمارا ملک قرون وسطائی تقسیم بندیوں کا شکار ہوسکتا ہے اور ہمارا معاشرہ انسانی تمدن کے آغاز سے قبل کے دور میں لوٹ جائے گا۔ فرقہ واریت ایران پر وار کرنے کی خاطر ہےانھوں نے انکشاف کیا کہ دنیا میں ایسی قوتیں ہیں جنہوں نے اکیسویں صدی کے آغاز ہی سے ایران کے خلاف جنگ لڑنے کے لئے شیعہ اور سنی کا مسئلہ چھیڑ رکھا ہے کیونکہ امریکہ اور اسرائیل کے لئے ممکن نہيں ہے کہ وہ فوج کی ایک یونٹ ایران روانہ کرکے ایران کے ایٹمی پروگرام کو ختم کردیں۔انھوں نے کہا: علاقے میں اصل مسئلہ غیر قانونی حکومتیں ہیں جو اپنی قوموں کی ترجمان نہيں ہیں جبکہ ایران اور بعض دوسرے ممالک میں حکومتیں عوام اور اپنی قوموں کی اعلی مصلحتوں اور مفادات کی محافظ ہیں اور مشرق وسطی میں حکومت سے شباہت رکھنے والے ادارے بعض ریاستوں اور ممالک پر مسلط ہیں جو در حقیقت اپنے ملکوں میں غیرملکی قوتوں کے مفادات کے تحفظ پر مامور ہيں اور جنگوں اور ساز باز وغیرہ میں بڑی طاقتوں کی دلالی کرنے کے سوا ان کی اور کوئی افادیت نہیں ہے؛ وہ بڑی طاقتوں کی نیابتی جنگوں (پراکسی وار) میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ شام میں افغان ماڈل نافذ کرنا چاہتے ہیںمناع نے کہا: بعض بیرونی قوتیں شام میں افغان ماڈل نافذ کرنے کے درپے ہیں؛ ایک مؤثر فریق کی کوشش ہے کہ سیٹلائٹ چینلز کے ذریعے لوگوں کو مذہب کے نام پر حکومت شام کے خلاف متحرک کردے وہ شام کی فوج کو علوی فوج کے عنوان سے متعارف کرانا چاہتے ہيں حالانکہ شامی فوج کی اکثریت سنیوں پر مشتمل ہے اور بعض لوگ ان ہی سیٹلائٹ چینلز (العربیہ، الجزیرہ وغیرہ) کے ذریعے کہتے ہیں کہ ابن تیمیہ کا فتوی ہے کہ یا تو سارے عوام سنی ہوجائیں یا پھر جلاوطنی قبول کریں یا قتل کئے جائیں!!! اور آج ان غیر شامی تکفیری گروہوں نے شام کے کئی علاقوں پر قبضہ کررکھا ہے۔ مسلح گروپ ترک افواج کی نگرانی میں شام میں داخل ہورہے ہیںانھوں نے کہا: ترکی کی افواج مسلح گروہوں کے شام میں داخلے کی نگرانی کررہی ہیں حالانکہ ترک افواج انہیں روک سکتی تھیں؛ ترکی ایک سیکولر اور دہریہ حکومت ہے جس میں آج کل بظاہر ایک اسلام پسند کابینہ حکومت کررہی ہے؛ ہمارا ترک حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ شامی عوام کے انتخاب کا احترام کرے اور اپنے خاص اعتقادی رجحان کو تکفیری گروہوں کے شام میں داخلے کے ذریعے شام پر مسلط کرنے سے باز رہے۔ انھوں نے کہا: اس وقت 20000 غیرملکی دہشت گرد شام میں مجود ہیں جن کا 40 الگ الگ ممالک سے تعلق ہے؛ یہ 20 ہزار غیر ملکی دہشت گرد مختلف گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں اور ہر کوئی کسی خاص ملک یا شخص یا بیرونی ادارے سے وابستہ ہے اور ان کے اقدامات میں بھی کوئی ہمآہنگی نہيں ہے لہذا اگر جب شام میں جنگ بندی میں اعلان ہوتا ہے یہ متعدد ٹولے اس کی پابندی نہيں کرسکتے [جیسا کہ عیدالضحی کے دوران حکومت شام کے جنگ بندی کے اعلان کے بعد متعدد بار جنگ بندی کو توڑا گیا] اور اس کے بعد بھی کسی وقت جنگ بندی کا اعلان ہوتا ہے یہ ٹولے اس کو بڑی آسانی سے ختم کردیں گے۔ اور دوسری طرف سے اپوزیشن میں بھی کوئی ایسی جماعت نظر نہيں آرہی ہے جو جمہوریت کی خواہاں ہو کیونکہ سب نے ہتھیار کا سہارا لیا اور یوں جمہوریت ناکام ہوگئی۔ حکومت شام کے مخالفین پر بدعنوانی کا وائرس حملہ آورانھوں نے کہا: عوام اصلاح کے لئے جدوجہد کررہے تھے لیکن اب مخالف راہنما ہتھیاروں کی ناجائز سودوں میں الجھ گئے ہیں اور اس طرح مخالف راہنماؤں پر  چوری اور بدعنونی مسلط ہوچکی ہے؛ مخالفین کی اکثریت اگرچہ پرامن لوگوں پر مشتمل ہے لیکن یہ اکثریت اس وقت خاموش اکثریت کہلائے تو زیادہ مناسب ہے اور تشدد کا خمیازہ ان ہی کو بھگتنا پڑ رہا ہے اور اب تک ہزاروں افراد اسی اکثریت ہی سے مارے گئے ہیں؛ حلب میں لڑنے والے تشدد پسندوں کے ایک تہائی افراد شامی سلفی اور تکفیری تھے اور باقی دو تہائی افراد دوسرے ممالک سے آئے ہوئے ہیں اور القاعدہ کی جانب سے لڑرہے ہيں وہ جمہوریت کے خواہاں نہيں ہیں بلکہ وہ تو بس افغان طالبان کی روش پر "اسلامی امارات" تاسیس کرنے کے خواہاں ہیں؛ وہ طالبانیت لانا چاہتے ہيں شام میں۔ قطر آل سعود کی طرف سے مسلح دہشت گردوں کی حمایتانھوں نے کہا: میں اس دعوی کی شدت سے تردید کرتا ہوں کہ مسلح دہشت گردوں کو شام کے اندر سے حمایت حاصل ہے اور مسلح افراد کو ہتھیار بھی اندر ہی سے ملتے ہیں؛ حقیقت یہ ہے کہ ان دہشت گردوں کو ہتھیار اور مالی امداد یا تو سعودی بندر بن سلطان بن عبدالعزیز سے ملتی ہے یا قطر حمد بن جاسم بن جبر سے جو شام کی سرحدوں پر بعض دلالوں کے ذریعے ان تک پہنچائی جاتی ہے؛ شامی عوام ان علاقوں سے بھاگ رہے ہیں جہاں دہشت گروہ پہنچ جاتے ہیں اور وہ صرف نہیں بھاگتے جو بھاگنے سے عاجز ہوتے ہیں۔ انھوں نے شام کے کرد علاقوں میں دہشت گردوں کو مقابلے میں عوام کے متحدہ ردعمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کردوں نے مناسب رویہ اختیار کیا ہے ورنہ فوج اور دہشت گردوں کی لڑائی کی قیمت عوام کو چکانا پڑتی ہے۔انھوں نے کہا: ابھی تک شام کے بحران کے حل کے لئے پرامن راہ حل موجود ہے؛ ہم ملک میں تبدیلی ضرور چاہتے ہيں لیکن ہمیں یہ تبدیلی ملک کی پسماندگی کی قیمت پر نہیں چاہئے۔ مخالفین متحد ہونے سے بے بس ہیںمسلح گروپ شام میں اس لئے بھی شکست کھا رہے ہیں کہ ان کے درمیان اتحاد نہیں ہے دوسری طرف سے تشدد پسند بیرونی گروپ متحد ہیں اور جو ذرا معتدل مسلح گروپ ہیں انھوں نے انتہاپسندوں کے تشدد کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ گویا وہ بشار اسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام سے چلے جائیں گے؛ لیکن اس طرز فکر کے عوض بھی ان کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ کیونکہ قومی سیاسی گروپ مزید کمزور ہوجائیں گے اور جنگ و جدل فیصلہ کن عنصر میں بدل جائے گی اور نہ صرف مقاصد کے حصول تک ضروری ہوگی بلکہ اقتدار کے تحفظ کے لئے بھی تشدد کا سہارا لینا پڑے گا اور یوں فریقین کے غیر متشدد لوگ یرغمال بن کر رہ جائیں گے [اور تشدد طویل مدت تک جاری رکھی رکھا جاسکتا لہذا اگر فرض کریں کہ مخالف جماعتیں اقتدار سنبھال بھی لیں انہیں وقت کے تقاضوں کے مطابق تشدد ترک کرنا پڑے گا اور چونکہ ان کا اقتدار تشدد کے سہارے قائم ہوگا لہذا تشدد کے خاتمے کے ساتھ ان کا اقتدار بھی چلاجائے گا ۔۔۔ یہ ایک قاعدہ ہے]۔اخوان المسلمین ہر قیمت پر اقتدار کے چکر میں ہےمناع نے شام میں اخوان المسلمین کے انتہاپسندانہ موقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا: اخوان کا بدترین تجربہ یہی ہے جو اخوان والے شام میں دکھا چکے ہیں؛ انھوں نے فوجی بغاوت کی کوشش کی، تشدد کا راستہ اپنایا، خونریزی کا سہارا لیا، اتحادوں میں منفی کردار ادا کیا، جمہوری اتحاد کے قیام کے خلاف سازشیں کیں اور بدترین کردار ادا کیا اور آج ہم اخوان المسلمین کی بدانتظامی کا خمیازہ بھگت رہے ہيں؛ اخوان والوں کا استدلال یہ ہے کہ چونکہ شمالی افریقہ کے چند ملکوں میں اخوان کی حکومت قائم ہوچکی ہے لہذا انہیں حق حاصل ہے کہ شام میں حکومت قائم کریں خواہ اس کے لئے جتنی بھی بڑی قیمت ادا کرنا پڑے! اور اس طرز فکر نے اپوزیشن کو بہت عظیم نقصانات سے دوچار کیا ہے۔ انھوں نے کہا: شامی اخوان المسلمین کا گمان ہے کہ وہ فلسطین میں حماس اور تیونس اور مصر میں اخوان المسلمین سے کسی طور پر بھی کم نہيں ہے حالانکہ شام میں درجنوں اقلیتیں ہیں اور شام کی آبادی اور سماجی ڈھانچے اور مصر و فلسطین اور تیونس کی آبادی کے ڈھانچے میں بہت بڑا فرق ہے۔ انھوں نے کہا: شام میں 10 فیصد کرد آبادی ہے اور کرد جماعتیں مکمل طور پر سیکولر ہں، شام کے سنی عرب قومی تحریک کے بانی ہیں اور یہاں دوسرے مذاہب کے پیروکار بھی کم نہيں ہیں۔اخوان المسلمین کی حکومت شام