الاقصی ٹی وی چینل کی آج کی رپورٹ کے مطابق اس منصوبے پر عملدرآمد کے اخراجات ایک کروڑ تیس لاکھ ڈالر سے زائد بتائے جارہے ہیں اور مسجد الاقصی کے سامنے صہیونی عبادتگاہ بنانے کا یہ فیصلہ، اقوام متحدہ میں فلسطین کا درجہ بڑھاکر اسے مبصر کی حیثیت سے تسلیم کئے جانے کے بعد کیا گیا ہے جس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ غاصب صہیونی ریاست، بین الاقوامی قراردادوں کو پیروں تلے روندتے ہوئے نسل پرستانہ اقدامات کا سلسلہ بدستور جاری رکھے ہوئے ہے اور اسے فلسطینی عوام کے مسائل و مشکلات کی کوئی پروا نہیں ہے۔
اقوام متحدہ میں فلسطین کا درجہ بڑھانے اور اس کو مبصر کی حیثیت سے تسلیم کئے جانے کی قرارداد جمعرات 29/ نومبر 2012 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 9 مخالف ووٹوں کے مقابلے میں 138 ووٹوں سے منظور کی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
2 دسمبر 2012 - 20:30
News ID: 369220
صہیونی کابینہ نے مسجد الاقصی کے سامنے یہودی عبادتگاہ بنانے کا منصوبہ منظور کرلیا ہے۔