24 نومبر 2012 - 20:30

حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نے بیروت میں مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے صہیونیوں سے مخاطب ہوئے اور کہا: تم نے قلعہ بند غزہ سے شکست کھائی ہے تو اب یہ بتاؤ کہ تم ان قوتوں کا کیا مقابلہ کروگے جو تمہارے لئے غزہ کی نسبت زيادہ پیچیدہ ہیں؟!

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل نے جنوبی بیروت میں اپنی نویں مجلس عزا کے دوران غزہ اور غزہ سے باہر کے فلسطینی عوام اور اسلامی مزاحمت کو صہیونیوں پر فتح کے سلسلے میں ہدیۂ تبریک پیش کیا اور کہا کہ اس کے باوجود یہ حقیقت بھی فراموش نہیں ہونی چاہئے کہ مزاحمت تحریک ایک بہت بڑی شخصیت کو ہاتھ سے دے بیٹھی ہے تاہم اس نقصان کے عوض اس نے صہیونی دشمن کے خلاف جنگ میں اپنی اہلیت و صلاحیت دکھائی۔سید حسن نصراللہ نے کہا:ہمیں سلسلہ وار کامیابیوں کے نئے دور کا سامنا ہے اور کامیابیوں کے ایک نئے دور میں واقع ہوئے ہیں۔ مزآحمت تحریک نے صہونیوں پر حملہ نہیں کیا چنانچہ یہ سوال بے جا ہوگا کہ کیا مزاحمت تحریک اپنے مقاصد حاصل کرسکی ہے یا نہیں! بلکہ مزاحمت کا اصل ہدف دشمن کے مقاصد کو خاک میں ملانا تھا تا ہم اس کی کامیابی دشمن کو اس کے مقاصد حصول میں ناکام بنانے سے کہیں بڑھ کر تھی اور وہ اپنی شرطیں صہیونیوں پر مسلط کرنے میں کامیاب ہوئی۔ مزاحمت محاذ نے ثابت کیا ہے کہ وہ غزہ میں دشمن پر اپنی شرطین ٹھونسنے کے حوالے سے زیادہ قوت حاصل کرچکی ہے اور جو لوگ اسرائیل کا ساتھ دے رہے تھے ان کا اسرائیل پر اطمینان کم ہوچکا ہے، دوسری طرف سے اسرائیل کی تسدیدی قوت (Power Of Deterrence) جنگ سے پہلے کی نسبت کم ہوچکی ہے۔جنگ بندی کے وقت یہودی ریاست کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو، وزیرجنگ ایہود بارک اور وزير خارجہ اویگدور لیبرمین کی کیفیت قابل رحم تھی اور ان افراد کا بگڑا ہوا، مایوس اور شکست خوردہ حلیہ بتا رہا تھا کہ وہ غزہ کی جنگ میں بری شکست کھا گئے ہیں اور ان کا یہ حلیہ 2006 میں لبنان کی 33 روزہ جنگ کے بعد ایہود اولمرت اور زیپی لیونی وغیرہ کے حلیوں کی یاد دلا رہا تھا۔ صہیونیوں نے گذشتہ جنگوں میں اپنے تلخ تجربات کی بنا پر اس جنگ کے اہداف و مقاصد اعلانیہ بیان نہیں کئے تھے اور انھوں نے فرعی سے اہداف کا اعلان کیا تھا جو وہ بزعم خود حاصل کرسکتے تھے لیکن وہ اعلانیہ اہداف کے حصول میں بھی ناکام رہے۔ محاذ مزاحمت کی حصولیابیوں (Achievements) اور کارناموں میں ایک یہ تھا کہ دشمن بدستور غزہ سے خوفزدہ ہے اور اس کو اہم سمجھتا ہے؛ غزہ کی جنگ مزید، اسرائیل کے لئے ایک تفریح نہیں ہے؛ مزاحمت کی تحریکوں نے دہشت کا توازن (Balance of Horror) قائم کیا اور وہ جھڑپوں میں اپنی قوت پاچکی ہیں اور اپنی شرائط دشمن پر مسلط کرنے میں کامیاب ہوچکی ہیں۔ غزہ میں مزاحمت کی بڑي کامیابی یہ تھی کہ وہ اسرائیل پر اپنی شرطیں ٹھونسنے میں کامیاب ہوئی اور اسرائیلیوں کی شرائط کو اہمیت نہ دی۔ میرا صہیونیوں سے سوال ہے کہ اب جو تم غزہ میں بھی شکست کھا چکے کس طرح تم دوسری قوتوں سے لڑوگے جن کی صورت حال تمہارے لئے غزہ کی نسبت بہت زيادہ پیچیدہ ہے؟!

دشمن اس وقت ایسی صورت حال سے دوچار ہوچکا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ بین الاقوامی امداد اور مسلح افواج اس ریاست کی حمایت نہیں کرسکتیں اسی وجہ سے اس نے مزاحمت تحریکوں کے ساتھ مفاہمت کا راستہ اپنایا وہی تحریکیں جن کو وہ دہشت گردی کا الزام لگایا کرتی تھی۔ یہ بات بہت اہم ہے۔غزہ کا تجربہ ان تمام لوگوں کے لئے ایک سبق ہے جو قومی دفاع کی حکمت عملی کے درپے ہیں؛ غزہ پر صہیونی ریاست کے حملے سے ثابت ہوا کہ دشمن کی فضائیہ جنگ کو انجام تک پہنچانے سے عاجز ہے اور دشمن کے کمانڈر بھی زمینی جنگ کے مرحلے میں داخل ہونے سے ہراساں تھے؛ وہ تیس سال قبل کی زمینی جنگ کا تجربہ رکھتے ہیں اور یہ مسئلہ 2006 میں لبنان پر حملے اور 2008 میں غزہ پر حملے کے دوران واضح ہوچکی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110